2.7 C
New York
مارچ 6, 2026
Delhi دہلیRegional News علاقائی خبریںTop News

عورت گھریلو نظام کی روح اور خاندانی استحکام کا مرکزی ستون ہے: پروفیسر اقتدار محمد خان

اقتدار محمد خان

‘‘ وومن سیل’’ اور‘‘ صنفی آگہی کمیٹی’’،شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی جانب سے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے پروگرام کا انعقاد

نئی دہلی، 06 مارچ: ‘‘ اسلام میں عورتوں کے حقوق اور ان کے مقام ومرتبے کو صدیوں پہلے ہی واضح اور متعین کر دیا گیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سمجھیں اور انہیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا عملی حصہ بنائیں۔ اگر مرد دیانت داری اور ذمے داری کے احساس کے ساتھ عورت کے جائز اور شرعی حقوق ادا کرے اور معاشرہ ان حقوق کے احترام اور تحفظ کو یقینی بنائے تو خواتین سے متعلق بہت سے مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں اورایک ایسا معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے جو عدل،توازن اور باہمی احترام کی مضبوط بنیاد پر قائم ہو۔

’’ان خیالات کا اظہار پروفیسر اقتدار محمد خان، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز اور ڈین،فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کی ‘‘وومن سیل’’ اور‘‘ صنفی آگہی کمیٹی’’ کے زیر اہتمام عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے منعقد ایک پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید فرمایا کہ خواتین کی بااختیاری کے جدید مباحث میں عموماً تعلیم، ملازمت اور معاشی خود مختاری جیسے پہلوؤں کو مرکزی حیثیت دی جاتی ہے۔ بلاشبہ یہ امور اپنی جگہ نہایت اہم ہیں، تاہم اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عورت خاندان کی بنیاد اور گھریلو نظام کے توازن،استحکام اور تربیت نسل کی مرکزی قوت ہے،نیز گھر کی تنظیم وترتیب، بچوں کی مؤثر تربیت اور خاندانی مسائل کے حل میں اس کی حکمت، صبر اور بصیرت کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

پروفیسر سید شاہد علی، سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے کہا کہ اسلام کی نگاہ میں مرد اور عورت میں سے کوئی بھی بذاتِ خود دوسرے سے برتر نہیں ہے،بلکہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ ہیں اور ان کی حقیقی فضیلت کا معیار جنس نہیں، بلکہ تقویٰ ہے۔ڈاکٹر محمد ارشد،مشیر، وومن سیل نے اس موقع پر کہا کہ اسلام کی نظر میں عورت محض معاشرے کا حصہ نہیں، بلکہ خاندان اور تہذیب کی بنیاد اور نسلوں کی معمار ہے۔

ڈاکٹر ندیم سحر عنبریں ،انچارج،وومن سیل نے کلمات تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام محض حقوق کے مطالبے تک محدود نہیں،بلکہ عزت، وقار اور ذمہ داری کے متوازن تصور سے عبارت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقع پر مضمون نویسی بہ عنوان ‘‘رمضان کی روحانیت کی بقاء میں خواتین کا کردار’’اور مباحثہ بہ عنوان ‘‘اسلام میں خواتین کی بااختیاری:روایتی اور جدید نقطۂ نظر’’کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا، اس میں جامعہ کے مختلف شعبوں کے طلبہ وطالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مباحثہ میں پہلا انعام محمد عثمان،دوسرا آمنہ،تیسرا ذیشان اور تشجیعی انعام عذرا شفیع شاہ نے حاصل کیا۔حکم کے فرائض ڈاکٹر جاوید اختر، ڈاکٹر اویس منظور ڈاراورڈاکٹر انیس الرحمن نے انجام دیے۔پروگرام کا آغاز شعبہ کی طالبہ اقصیٰ عزیز کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔نظامت کے فرائض علما نے انجام دیے۔اس موقع پر شعبہ کے جملہ اساتذہ جناب جنید حارث، ڈاکٹر محمد مشاق،ڈاکٹر محمد خالد خان،ڈاکٹر محمد عمر فاروق،ڈاکٹر خورشید آفاق،ڈاکٹرعبدالوارث خان،ڈاکٹر محمد اسامہ اورڈاکٹر محمد علی کے علاوہ طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

پروگرام کو کام یاب بنانے میں شعبہ کے ریسرچ اسکالرمحمد اکرم ،بزم طلبہ کی جنرل سکریٹری خدیجہ،محمد اسحق،شہزادی شاہین،زویا ہارون، احسان، مہرین اور ادیبہ عالم وغیرہ کا اہم کرداررہا۔

Related posts

وزیراعظم کا قوم کیلئے صبح کا پیغام، خود انحصاری قوم کی تعمیر کی بنیاد

Hamari Duniya News

بھارت میں اے آئی موبائل  ڈیٹا کی طرح سستی ہوگی۔ مکیش امبانی

Hamari Duniya News

ڈی جے اور لاؤڈ اسپیکر پر رات دس بجے کے بعد پابندی، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا انتباہ،مساجد کو نوٹس جاری

Hamari Duniya News