کیرانہ، 28 مارچ (عظمت اللّٰہ خان)۔ مظفرنگر میں اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک اہم میٹنگ کے دوران قومی کونسل برائے فروغ اردو (این سی پی یو ایل) کی از سرِ نو تشکیل کے سلسلے میں مرکزی حکومت کی جانب سے موصول مثبت جواب پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ عہدیداران نے کہا کہ اس پیش رفت سے کونسل کی انتظامی سرگرمیوں کی بحالی کی امیدیں روشن ہو گئی ہیں۔
میٹنگ کے دوران تنظیم کے ضلع صدر کلیم تیاگی نے کہا کہ طویل عرصے سے کونسل کی تشکیلِ نو کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار تھی، تاہم اب مرکزی حکومت کے جواب سے حالات واضح ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش میں اردو اکیڈمی کے جلد از جلد قیام کا مطالبہ بھی پیش کیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارتِ تعلیم کی جانب سے موصولہ اطلاع کے مطابق این سی پی یو ایل کے ایگزیکٹو بورڈ اور گورننگ کونسل کی تشکیل نو کا عمل آخری مرحلے میں ہے، جبکہ فنانس کمیٹی کے قیام پر بھی غور جاری ہے۔ کلیم تیاگی نے کہا کہ کونسل کی غیر فعالیت کے باعث اردو زبان سے متعلق تعلیمی و ثقافتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی تھیں، تاہم اب اس کی بحالی کے بعد ان سرگرمیوں کے دوبارہ شروع ہونے کی قوی امید ہے۔

تنظیم کے سرپرست ڈاکٹر شمیم الحسن نے کہا کہ اتر پردیش اردو اکیڈمی کی کمیٹی کی عدم تشکیل کے باعث صوبہ میں دوسری سرکاری زبان کے طور پر اردو کے کام کاج تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے اردو کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے اور اردو سے وابستہ افراد، خصوصاً مصنفین، ادباء اور شعراء میں مایوسی پائی جا رہی ہے۔
تنظیم نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا کہ اردو اکیڈمی کی کمیٹی کو جلد از جلد تشکیل دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک میمورنڈم بھی ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کنوینر تحسین علی اساروی نے کہا کہ تنظیم اردو زبان کے حقوق کے لیے ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک جدوجہد کرتی رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اردو کے فروغ کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو آگے آنا ہوگا اور نئی نسل کو اس زبان سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
میٹنگ میں ڈاکٹر شمیم الحسن، حاجی سلامت راہی، کلیم تیاگی، تحسین علی، شمیم قصار، بدرالزماں خان، ڈاکٹر فرخ حسن، ندیم ملک، گلفام احمد، ماسٹر خلیل احمد اور ماسٹر امتیاز علی سمیت دیگر افراد موجود رہے۔
