طلبہ کے تناسب کے لحاظ سے اردو ویکنسی وضع کرنے کے لئے بہار سرکار سے ابوٹا کا مطالبہ
موتیہاری، 27مارچ : ریاست بہار میں اردو زبان کو دوسری سرکاری دفتری زبان کی حیثیت حاصل ہے ،اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہاں اردو پڑھنے لکھنے والے اور اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی آبادی ہے، بہار کی موجودہ حکومت بھی اردو کی ترویج میں پیش پیش رہی ہے لیکن افسوس حالیہ دنوں میں سرکار کی جانب سے منظور شدہ بہار کے بلاک ماڈل اسکولوں سے اردو کا عہدہ غائب کر دیا گیا جس سے اردو آبادی میں شدید بے چینی پاءی جا رہی ہے۔
اس تعلق سے آل بہار اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے بہار کے وزیر اعلیٰ وزیر تعلیم ، محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری ، اقلیتی کمیشن ، اردو ڈایرکٹوریٹ کے ڈایرکٹر و جملہ متعلقہ افسران کو مکتوب ارسال کر بلاک کے ماڈل اسکولوں میں بھی اردو اساتذہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے سکریٹری محمد امان اللہ نے کہا کہ ای شکشا کوش پر اساتذہ سے ماڈل اسکولوں میں تبادلہ/تقرری کے لیے آن لائن درخواست فارم لیے جا رہے ہیں لیکن افسوس کہ افسران کی لا پرواہی یا جان بوجھ کر اردو مضمون کا عہدہ مختص نہیں کیا گیا ہے جس سے اردو آبادی میں سخت ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ وہیں ابوٹا کے ریاستی کنوینر ڈاکٹر عقیل مشتاق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ای شکشا کوش پر دوسرے مضامین کے اساتذہ سے تبادلہ/یا تقرری کے لیے درخواست قبول کیے جا رہے ہیں اسی طرح آن لائن پورٹل پر اردو مضمون کو بھی جگہ دی جانی چاہیے ، اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو یہ اردو اساتذہ اور طلبہ کے لیے نا انصافی کی بات ہے۔ ابوٹا کے ضلعی صدر نعیم الدین سلفی نے کہا کہ اردو ریاست بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے ،اس لیے اردو اساتذہ کو بھی تبادلہ/تقرری کے عمل میں شریک کیا جانا چاہیے۔
ابوٹا کے خازن محمد فیروز عالم نے کہا کہ یہ ایک حساس اور سنگین معاملہ ہے ،اگر ابھی آن لائن پورٹل پر اردو کو شامل نہیں کی گئی تو پھر آنے والے دنوں میں اردو کا مستقبل تاریک ہونے والا ہے ۔ ابوٹا کے تنظیمی سیکریٹری عزیر سالم نے اپنے پریس بیان میں محکمہ تعلیم کے ایک لیٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ کے لیٹر کے مطابق بہار کے سبھی ماڈل اسکولوں میں طلبا وطالبات کی تعداد کے تناسب کے لحاظ سے سبھی سبجکٹس کے اساتذہ کا ہونا لازمی ہے، تاکہ ماڈل اسکولوں میں تعلیم کا ماحول دیگر اسکولوں کے مقابلے میں آئیڈل بن سکے اس کے باوجود اردو جیسی سرکاری اور کثیرالاستعمال زبان کو نظر انداز کر کے آئیڈل اسکولوں کے مقاصد کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
سیکریٹری موصوف نے کہا کہ یہ محکمہ جاتی بھول ہوسکتی ہے اس لئے انہوں نے وزیر تعلیم بہار اور محکمہ تعلیم کے ایڈیشنل چیف سکریٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جوبھی تکنیکی خامیاں ہے اسے دور کیا جائے۔ آل بہار اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے کے جواینٹ سکریٹری مہر عالم چمپارنی نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہمیشہ سے اردو زبان کے تئیں فکر مند رہے ہیں ،انہوں نے اردو کی ترقی کے لیے بہار کے لگ بھگ سبھی اسکولوں میں اردو اساتذہ کی بحالی کرکے اپنی اردو دوستی کا کام کیا ہے ،لیکن افسوس حالیہ دنوں حکومت کی جانب سے منظور شدہ بلاک ماڈل اسکولوں سے اردو کی آسامیاں صفر دکھائی گیء ہے جس سے اردو اساتذہ ،طلبہ اور گارجین میں بے ناراضگی پائ جا رہی ہے ۔ میڈیا انچارج محمد اسرافیل نے کہا کہ ریاست میں اردو زبان پڑھنے والے طلبہ کی ہزاروں تعداد ہے ، اگر ماڈل اسکولوں میں اردو کو جگہ نہیں دی جاتی ہے تو پھر یہ ہزاروں طلبہ کے ساتھ غیر آئینی عمل ہوگا۔
ابو ٹا کے نائب صدر عبدالعزیز و سرگرم ممبر ڈاکٹر طاہر الدین طاہر نے محکمہ متعلقہ افسران اور ذمہ داران کے اس عمل پر حیرت ظاہر کرتے ہوئے مشترکہ طور پر کہا کہ جس ریاست میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے افسوس اسی ریاست کے ماڈل اسکولوں سے اردو ختم کرنے کی سازش ہو رہی ہے ۔ انہوں نے ای شکشا کوش کے آن لائن پورٹل پر اردو مضمون کو بھی جگہ دے کر اس کا جائز حق دینے کی مانگ کی ہے۔
