نئی دہلی، 29 جنوری۔ سپریم کورٹ نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے ضوابط پر عارضی طور پر روک لگا دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی زیرقیادت بنچ نے کہا کہ اگر عدالت مداخلت نہیں کرتی ہے تو اس سے سماج میں تقسیم پیدا ہوگی۔ اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ عدالت نے یو جی سی اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنے جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ یو جی سی ریگولیشن میں استعمال کیے گئے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہم 75 سال بعد رجعت پسند معاشرہ بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
سپریم کورٹ میں کئی عرضیاں دائر کی گئی ہیں، جن میں راہل دیوان اور وکیل ونیت جندال نے دائر کی ہیں۔ جندال کی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ قواعد عام زمرے کے خلاف امتیازی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
درخواست میں سپریم کورٹ سے یو جی سی ریگولیشنز 2026 کے رول 3(سی) کے نفاذ پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 2026 کے قواعد کے تحت قائم کردہ دفعات کا اطلاق تمام ذاتوں پر ہونا چاہیے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان رولز کی آڑ میں جنرل کیٹیگری سے تعلق رکھنے والے طلباءاور اساتذہ کے خلاف بھی جھوٹی اور افسوس ناک شکایات کی جا سکتی ہیں۔
