کیرانہ۔28فروری(عظمت اللّٰہ خان )۔ القرآن اکیڈمی کیرانہ کے ڈائریکٹر مفتی اطہر شمسی نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ اسلام میں باہمی اُلفت، اخوت اور سماجی ہم آہنگی صرف ایک سماجی سہولت یا وقتی ضرورت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان محض زبانی اقرار یا ذہنی یقین کا نام نہیں بلکہ وہ طرزِ عمل میں جھلکتا ہے، جہاں عدل و انصاف، ضبطِ نفس، حقوقِ پڑوس کی پاسداری اور انسانی دکھ سکھ میں شرکت نمایاں ہو۔
انہوں نے قرآنِ کریم کی آیت (49:13) کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ انسانی تنوع اختلاف و تصادم کے لیے نہیں بلکہ تعارف، تعاون اور باہمی تکریم کے لیے ہے، اور حقیقی فضیلت نہ نسل سے وابستہ ہے نہ کسی جماعتی شناخت سے، بلکہ تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہی اس کا معیار ہیں۔ مزید برآں آیات (17:70، 5:32) کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنی ذات میں حرمت و تکریم کا حامل ہے اور کسی بے گناہ کی جان لینا گویا پوری انسانیت کے خلاف جرم کا ارتکاب ہے۔
مفتی اطہر شمسی نے اس بات پر زور دیا کہ پیغمبر اسلام محمد رسول اللّٰہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ معاشرتی ہم آہنگی، عدل و رواداری اور باہمی احترام کا روشن عملی نمونہ ہے، جس میں انصاف، انسانی وقار اور مذہبی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ معاشرہ اختلاف کے باوجود انسانی عظمت اور انصاف کی بنیاد پر باوقار اشتراکِ حیات کو فروغ دے۔
