کیرانہ، 13 مارچ (عظمت اللّٰہ خان)۔ شہر کی بڑی اور معروف مساجد کے علاوہ اطراف کے مواضعات میں ماہِ رمضان المبارک کے چوتھے جمعہ کی نماز نہایت خشوع و خضوع اور روحانی فضا میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد مساجد میں جمع ہوئی اور اللہ رب العزت کے حضور سجدہ ریز ہو کر عبادت و ریاضت میں مشغول رہی۔
اطلاعات کے مطابق شہر کے علاوہ مواضعات تیترواڈہ، پنجیٹھ اور دیگر دیہات کی متعدد مساجد میں بھی نماز جمعہ کے اجتماعات عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوئے جہاں نمازیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کر کے رمضان المبارک کی برکتوں سے فیض یاب ہونے کی کوشش کی۔
کیرانہ شہر کی جامع مسجد، اشاعت الاسلام، مسجد دربار، مکی مسجد، بنگلہ والی مسجد، چھپر والی مسجد اور شاملی بس اسٹینڈ والی مسجد میں بالترتیب مولانا محمد طاہر، مولانا محمد عمیر ندوی، مولانا ممشاد، مولانا محمد یعقوب، مولانا فیض محمد اور قاری محمد انیس نے نماز جمعہ کی امامت فرمائی اور خطبات کے ذریعہ حاضرین کو دینی و اخلاقی تعلیمات سے مستفید کیا۔
اس موقع پر آئمہ کرام نے اپنے خطابات میں ماہِ رمضان المبارک کے تیسرے عشرے کی عظمت و فضیلت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ عشرہ جہنم سے نجات کا عشرہ ہے جس میں بندگانِ خدا کو کثرتِ عبادت، توبہ و استغفار اور شب بیداری کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے زکوٰۃ اور صدقۂ فطر کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں صاحبِ نصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض ہے اور اس کے ذریعہ معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کی مدد کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
اشاعت الاسلام مسجد میں اپنے خطاب کے دوران مولانا محمد عمیر ندوی نے قرآن کریم کی عظمت اور رمضان المبارک میں اس سے تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رمضان دراصل قرآن کا مہینہ ہے اور اس مقدس مہینے میں نزولِ قرآن کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس بابرکت مہینے میں تلاوتِ قرآن کو اپنا معمول بنائیں اور اس کے پیغام کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ مولانا نے مزید کہا کہ قرآن کریم انسانیت کے لیے ہدایت کا کامل سرچشمہ ہے اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے تراویح کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عبادت رمضان المبارک کی ایک عظیم سنت ہے جس کے ذریعہ مسلمان قرآن کریم کو پورے انہماک کے ساتھ سنتے اور اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے نمازیوں کو تلقین کی کہ رمضان المبارک کے بقیہ ایام کو بھی عبادت، دعا اور نیکیوں میں گزاریں۔
ادھر نماز جمعہ کے موقع پر مساجد کے اطراف میں پولیس اور انتظامیہ پوری طرح چوکس رہی۔ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی انتظامات کیے گئے اور پولیس اہلکار مساجد کے باہر تعینات رہے تاکہ نمازیوں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔ مجموعی طور پر نماز جمعہ کے اجتماعات پرامن اور روحانیت سے لبریز ماحول میں اختتام پذیر ہوئے۔
