13.1 C
New York
اپریل 3, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

اُتم نگر میں امن و امان کے مؤثر قیام پر اے پی سی آر نے دہلی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا

اے پی سی آر

نئی دہلی، 3 اپریل : ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے دہلی کے علاقے اُتم نگر میں عیدالفطر، رام نومی اور ہنومان جینتی کے موقع پر امن و امان، باہمی ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے دہلی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو قابلِ تحسین، مؤثر اور مثالی قرار دیا ہے۔

اے پی سی آر کے نیشنل سکریٹری محمد ندیم خان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 19 مارچ 2026 کو دہلی ہائی کورٹ نے مقدمہ W.P.(CRL)-896/2026 میں، جو اے پی سی آر کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، دہلی پولیس کو یہ ہدایت دی تھی کہ اُتم نگر میں مذہبی تہواروں کے دوران امن و قانون کی بحالی، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی روک تھام، اور پرامن مذہبی ماحول کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ ندیم خان نے کہا ہے کہ وہ دہلی ہائی کورٹ کے مذکورہ احکامات پر دہلی پولیس کی ذمہ دارانہ، سنجیدہ اور مؤثر عمل آوری کو باضابطہ طور پر سراہتے ہے۔

اے پی سی آر کے سکریٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ دہلی پولیس نے نہایت حکمت، بردباری اور پیشہ ورانہ سنجیدگی کے ساتھ حالات کو سنبھالا۔ اس سلسلے میں پولیس نے مقامی معززین، مختلف برادریوں کے ذمہ دار افراد اور سماجی نمائندگان کو اعتماد میں لے کر امن کمیٹیوں کی تشکیل کی، باقاعدہ فلیگ مارچ کیے، اور حساس مقامات پر کافی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے تاکہ کسی بھی شرپسند یا سماج دشمن عنصر کو علاقے کا ماحول خراب کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات نے نہ صرف علاقے میں اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا کیا بلکہ مختلف طبقات کے درمیان اطمینان اور باہمی اعتماد کو بھی مضبوط کیا۔

عیدالفطر کے پہلے دن ممکنہ کشیدگی کو بروقت قابو میں کیا گیا
اے پی سی آر کے مطابق 21 مارچ 2026 کو، جو عیدالفطر کا پہلا دن تھا، دوپہر کے وقت جے جے کالونی اور اُتم نگر ایسٹ میٹرو اسٹیشن کے سامنے مرکزی سڑک پر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا تھا، جس کی سرگرمیوں سے علاقے میں اشتعال، کشیدگی اور بدامنی پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا۔
تنظیم نے کہا کہ دہلی پولیس کی فوری کارروائی، مسلسل نگرانی اور بروقت مداخلت نے اس صورتِ حال کو بگڑنے سے بچا لیا۔ پولیس نے ایسے متعدد افراد کو حراست میں لیا جو مبینہ طور پر اشتعال انگیزی، غیرقانونی سرگرمیوں اور فساد نما ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اے پی سی آر نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ابتدائی مشاہدات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ہجوم میں شامل بڑی تعداد مقامی افراد پر مشتمل نہیں تھی بلکہ ان میں سے بہت سے لوگ دہلی کے دوسرے علاقوں اور ریاست سے باہر سے آئے ہوئے تھے، اور غالب امکان یہی ہے کہ انہیں عیدالفطر کی تقریبات میں خلل ڈالنے کے لیے متحرک کیا گیا تھا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ اُتم نگر کے مقامی باشندوں نے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا برادری سے ہو، نہایت ذمہ داری، شعور اور تعاون کا مظاہرہ کیا۔ اے پی سی آر کے مطابق مقامی لوگوں نے دہلی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہوئے علاقے میں پرامن، باوقار اور محفوظ ماحول برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

بیان میں اس بات کو بھی سراہا گیا کہ دہلی پولیس نے ایسے بیرونی اور مشتبہ عناصر کے علاقے میں داخلے کو روکنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کیے، جو ممکنہ طور پر حالات کو خراب کرنے کے ارادے سے وہاں پہنچے تھے۔

اے پی سی آر نے کہا کہ یہی حفاظتی اور اعتماد سازی کے اقدامات بعد ازاں 26 مارچ 2026 کو رام نومی اور 2 اپریل 2026 کو ہنومان جینتی کے موقع پر بھی جاری رکھے گئے۔
بیان کے مطابق ان دونوں مواقع پر مذہبی جلوس اور تقریبات امن، نظم و ضبط اور قانون کی مکمل پاسداری کے ساتھ انجام پائیں، اور اس پورے عمل میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو جنم نہ لینے دیا جائے۔

اے پی سی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ دہلی ہائی کورٹ کے بروقت احکامات اور دہلی پولیس کے ذمہ دارانہ اقدامات نے اُتم نگر میں مختلف سماج اوربرادریوں کےدرمیان اعتماد، خیرسگالی اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

تنظیم کے مطابق اُتم نگر میں اختیار کیا گیا یہ طریقۂ کار، جس میں امن کمیٹیاں، مقامی سطح پر مشاورت، مؤثر پولیس رابطہ، شفاف حکمتِ عملی اور حساس مقامات پر پیشگی حفاظتی انتظامات شامل تھے، ملک کے دیگر فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید اور مؤثر ماڈل بن سکتا ہے۔

اے پی سی آر نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے علاقوں میں مقامی امن کمیٹیوں کو مستقل اور فعال حیثیت دی جائے گی تاکہ وہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے امن و آشتی کے قیام میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
بیرونی شرپسند عناصر کی مکمل جانچ کا مطالبہ
اپنے بیان کے اختتام پر اے پی سی آر نے کہا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کو صرف وقتی بندوبست تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے تسلسل اور استحکام کے لیے قانونی، انتظامی اور سماجی سطح پر مستقل توجہ بھی ضروری ہے۔
تنظیم نے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ ان بیرونی عناصر، گروہوں اور نیٹ ورکس کی مکمل، غیر جانبدارانہ اور مؤثر تحقیقات کرے، جنہوں نے عیدالفطر سے قبل اُتم نگر میں فرقہ وارانہ اشتعال، کشیدگی اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اے پی سی آر نے امید ظاہر کی کہ دہلی پولیس آئندہ بھی آئینی ذمہ داری،غیر جانبداری، قانون کی بالادستی اور شہری تحفظ کے اصولوں کے تحت کام کرتے ہوئے دہلی میں امن، سماجی ہم آہنگی اور مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔

Related posts

سومناتھ سوابھیمان پَرْو — ایک ہزار سال کی اٹوٹ عقیدت (1026–2026)

Hamari Duniya News

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول کا 34 واں سالانہ جلسہ نہایت ہی شان وشوکت کے ساتھ منعقد 

Hamari Duniya News

کیرانہ-کھرگان-سنہٹی مسورہ رابطہ سڑک کو میرٹھ-کرنال شاہراہ سے جوڑنے کی پہل

Hamari Duniya News