نئی دہلی: 12/مارچ۔ دارالحکومت نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب، سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ پروگرام انڈین مسلمس فار سول رائٹس (آئی ایم سی آر) اور ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی مشترکہ کوششوں سے منعقد کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتھلی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت کے عوام نے جس طرح ایران کے ساتھ ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا ہے، ایران اس پر ہندوستانی عوام کا تہہ دل سے شکر گزار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔ ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں تھا، لیکن ان دونوں ممالک نے دھوکہ دیتے ہوئے ایران پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا گیا اور ایک اسکول پر بمباری کرکے معصوم بچیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سفیر نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع کے لیے لڑ رہا ہے اور ایرانی افواج نے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے بجائے صرف امریکہ اور اسرائیل کی تنصیبات کو ہدف بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ کبھی بھی عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔
آئی ایم سی آر کے صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت مہاتما گاندھی کی سرزمین ہے اور ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم اسرائیل کے وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ امن کا پیامبر رہا ہے اور دہشت پسندانہ سوچ کو کبھی فروغ نہیں دیتا۔ محمد ادیب نے کہا کہ اسرائیل کا وزیراعظم ایک جنگی مجرم ہے اور جب ہمارا وزیراعظم اس سے گلے ملتا ہے تو یہ ہمارے لیے شرم کا باعث بنتا ہے۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر اور سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اور ان کی جماعت آل انڈیا کانگریس کمیٹی ایران پر کی گئی اس جارحانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران اور حق کے ساتھ کھڑے ہیں اور دنیا میں دہشت کو فروغ دینے والی طاقتوں کی حمایت نہیں کرتے۔ سلمان خورشید نے بتایا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے اظہار یکجہتی کے لیے ایران کے سفارت خانے کا دورہ کیا جا چکا ہے جہاں سپریم لیڈر کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا، جبکہ جلد ہی انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی جانب سے بھی اس سانحے پر ایران کے سفارت خانے کا دورہ کیا جائے گا۔
دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران ہمارا پڑوسی اور قدیم دوست ملک ہے جس کے ساتھ بھارت کے تاریخی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حملہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جس طرح عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے باوجود بھارت سرکار کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے۔ نجیب جنگ نے کہا کہ اگر ہم ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کی دو لفظوں میں بھی مذمت نہیں کر سکتے تو ہمیں اس پر شرم آنی چاہیے۔
رکن پارلیمنٹ پروفیسر منوج جھا نے بھی مرکزی حکومت اور بی جے پی کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے سرینڈر کرنے کے بجائے موت کو قبول کرنا پسند کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پوری ہمدردی ایران اور اس کی عوام کے ساتھ ہے۔
جماعت اسلامی ہند کے امیر انجینئر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسرائیل کا وزیراعظم ایک عالمی مجرم ہے جس کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور آج دنیا میں عالمی قانون کی بالادستی کمزور پڑتی نظر آ رہی ہے۔
سابق جج جسٹس اقبال انصاری نے کہا کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو جرات مندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف اس جارحانہ کارروائی کی سخت مذمت کی۔
اس موقع پر سرو دھرم سنسد کے چیف اور سناتن دھرم کے معروف پیشوا گوسوامی سشیل جی مہاراج نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ ایک ساتھ کھڑے ہیں اور ایران ہمارا پرانا دوست ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والے متحد ہو کر اسرائیل اور امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرنے والوں میں سابق رکن پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر کنور دانش علی، ممتاز سماجی کارکن فادر جان دیال، دھارمک جن مورچہ کے قومی صدر محمد سلیم انجینئر، سابق سفیر اشوک کمار شرما اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید سمیت متعدد اہم شخصیات شامل تھیں۔
پروگرام کی نظامت کے فرائض معروف سماجی کارکن ندیم خان نے انجام دیے جبکہ اختتامی کلمات اور اظہار تشکر آئی ایم سی آر کے جنرل سکریٹری مسعود حسین نے پیش کیا۔ اس موقع پر مختلف مذاہب کے دھرم گرو۔ دھلی میں قائم ایران اور عراق سفارت خانے سے کئی ڈپلومیٹ اور دہلی و اطراف کے علاقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد اہم سماجی، سیاسی اور علمی شخصیات بھی موجود تھیں جنہوں نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
