ریاض، 23 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز)۔ مملکتِ سعودی عرب کی معروف علمی دانش گاہ جامعۃ الملک سعود، ریاض کے شعبۂ اسلامیات سے فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ سلفی حفظہ اللہ کو ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی ڈگری تفویض کر دی گئی۔ یہ اعزاز 22 اکتوبر 2026ء، بروز جمعرات، منعقدہ تقریب میں دیا گیا۔

ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ کا تعلق نیپال کے ضلع کپل وستو کے موضع بھیسکنڈہ سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے مدرسہ فرقانیہ سے حاصل کی، جبکہ 1996ء میں جامعہ سلفیہ، بنارس میں داخلہ لیا اور 2002ء میں ثانویہ ثانیہ کی سند سے جامعۃ الملک سعود ریاض میں داخلے کی منظوری مل گئی، جب کہ ابھی آپ جامعہ سلفیہ میں عالمیت کی آخری سال میں زیر تعلیم تھے۔ وہاں انھوں نے معہد اللغۃ کا دوسالہ کورس مکمل کرنے کے بعد تفسیر و حدیث میں بیچلر، حدیث و علومِ حدیث میں ماسٹرز اور بالآخر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
ان کے ماسٹرز کے تحقیقی مقالے کا عنوان تھا:
تخريج الأحاديث الواردة في كتاب إعانة الطالبين للعلامة الدمياطي البكري الشافعي
جب کہ ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ درج ذیل عنوان سے ہے:
كتاب تاريخ أصبهان للحافظ أبي نعيم من ترجمة محمد بن هارون الجوزداني إلى ترجمة محمد بن أحمد بن الحسن الهيساني: دراسة وتحقيقًا
یہ تحقیقی موضوعات ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ کے حدیثی ذوق، تخریجِ حدیث، تراجمِ رواۃ اور مخطوطات کی تحقیق سے گہری وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ علمی وتحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ دعوت واصلاح کے میدان میں بھی طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ مکتب دعوہ سینٹر، السلّی، ریاض کے تحت دعوتی سرگرمیوں سے وابستہ رہے ہیں، جہاں ان کی نگرانی میں متعدد دعوتی کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔ ریاض کی معروف مسجد جامع الراجحی میں وہ تقریباً پندرہ برس سے خطبۂ جمعہ کا فوری ترجمہ بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے روزانہ، ہفتہ وار اور ماہانہ دروس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کی دعوتی کوششوں کے ذریعے متعدد افراد کو عقائد و اعمال کی اصلاح، قبر پرستی اور اندھی تقلید جیسی گمراہیوں سے رجوع اور کتاب و سنت کی روشنی میں منہجِ اہلِ حدیث کو سمجھنے کا موقع ملا۔

دعوتی مصروفیات کے ساتھ ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ تصنیف و تحقیق سے بھی وابستہ ہیں۔ مکتب دعوہ سینٹر، اردو جالیات، ریاض کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے ان کے رسائل میں راہِ نجات، خوبیاں اور خامیاں، خوشگوار زندگی کے خوشنما اصول اور راہِ جنت شامل ہیں۔
ان کے مطبوعہ تحقیقی مقالات میں خالد بن الولید رضی اللہ عنہ اور ان کی معزولیت: ایک تحقیقی جائزہ اور سرايا النبي صلى الله عليه وسلم لهدم الأصنام قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے مضامین مختلف علمی و دینی مجلات، جن میں رسالة الخليج العربي، ریاض، مجلة هلال الهند اور انڈونیشیا کا جوامع الكلم شامل ہیں، میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں۔
علمی و دعوتی حلقوں نے ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ کی اس کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔ اہلِ علم و احباب نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں، تحقیقی تجربے اور دعوتی خدمات کے ذریعے آئندہ بھی دین، علمِ حدیث اور اصلاحِ معاشرہ کے میدان میں مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔
مبارک باد پیش کرنے والوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر زبیر احمد اسد اللہ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کی تحقیقی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں کتاب و سنت کی خدمت کے لیے مزید توفیق عطا فرمائے۔
