چندن سنگھ جینا کے گھر سے 32 لاکھ روپے نقد، سونا اور قیمتی گھڑیاں برآمد ہونے کا دعویٰ، راوت نے الزامات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، کہا—میرے سبب پارٹی کی بدعنوانی مخالف جدوجہد کمزور نہیں ہونی چاہیے
دہرادون، 12 ستمبر: اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر رہنما ہریش راوت نے پارٹی کے دو اہم تنظیمی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے سابق او ایس ڈی اور موجودہ پرسنل اسسٹنٹ (PA) چندن سنگھ جینا کے گھر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی کارروائی کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ راوت نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے کسی ساتھی سے متعلق کارروائی کا اثر کانگریس کی بدعنوانی کے خلاف سیاسی جدوجہد پر پڑے۔
ہریش راوت نے اتراکھنڈ پردیش کانگریس کمیٹی کی ایگزیکٹو کے رکن اور کانگریس ورکنگ کمیٹی (CWC) کے مستقل مدعو رکن کے عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ فی الحال کسی سرکاری عہدے پر نہیں ہیں، اس لیے استعفیٰ پارٹی کے انہی تنظیمی عہدوں سے دیا ہے۔
PA کے گھر ED کی کارروائی، کیا ملا؟
ED نے 10 ستمبر کو اتراکھنڈ سب آرڈینیٹ سروس سلیکشن کمیشن (UKSSSC) کی 2016 گرام پنچایت وکاس ادھیکاری (VDO) بھرتی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں دہرادون سمیت کئی مقامات پر تلاشی لی تھی۔
ایجنسی کے مطابق ان کارروائیوں میں چندن سنگھ جینا کی رہائش گاہ بھی شامل تھی۔ ED کا کہنا ہے کہ جینا ہریش راوت کے وزیر اعلیٰ رہنے کے دوران 2014 سے 2017 تک او ایس ڈی رہے تھے اور اس وقت ان کے پرسنل اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ED کے مطابق جینا کے گھر سے تقریباً 32 لاکھ روپے کی غیرحساب شدہ نقد رقم، تقریباً 200.5 گرام سونے کے سکے اور زیورات اور 12 قیمتی کلائی گھڑیاں برآمد کی گئیں۔ ایجنسی نے ضبط اور منجمد کیے گئے اثاثوں کی مجموعی مالیت تقریباً 1.28 کروڑ روپے بتائی ہے۔
VDO بھرتی امتحان میں کیا الزام ہے؟
ED کی تحقیقات کے مطابق 2016 کے VDO بھرتی امتحان میں مبینہ طور پر OMR جوابی پرچوں میں چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ محفوظ تحویل سے کچھ OMR شیٹس نکال کر ایک نجی کمپیوٹر ایجنسی تک پہنچائی گئیں، جہاں مبینہ طور پر خالی یا نامکمل جوابی پرچوں کو غیر قانونی طریقے سے مکمل یا تبدیل کیا گیا اور بعد میں انہیں دوبارہ سیل کیا گیا۔
یہ کارروائی مبینہ طور پر رشوت کے عوض کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم معاملہ ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے اور الزامات کی حتمی قانونی تصدیق عدالت یا مکمل تفتیش کے نتیجے سے ہوگی۔
ہریش راوت نے چندن جینا کا دفاع کیا
ED کی کارروائی کے بعد ہریش راوت نے اپنے ساتھی چندن سنگھ جینا کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ایک نیک، محنتی اور ذمہ دار شخص کے طور پر جانتے ہیں۔ راوت نے کہا کہ اگر OMR شیٹس میں چھیڑ چھاڑ کے الزام میں جینا کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آتا ہے تو وہ اس معاملے پر شرمندگی محسوس کریں گے، لیکن فی الحال انہیں ان الزامات پر اعتماد نہیں ہے۔
راوت نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کے دور حکومت میں بھرتیوں کے عمل میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو وہ اتراکھنڈ کے عوام سے معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اپنے تین سالہ دور حکومت میں 42 ہزار سے زیادہ سرکاری بھرتیوں کا حوالہ بھی دیا۔
’’میرے سبب کانگریس کی جدوجہد کمزور نہیں ہونی چاہیے‘‘
ہریش راوت نے اپنے استعفے کی سب سے بڑی وجہ کانگریس کی بدعنوانی مخالف مہم کو بتایا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے کسی اقدام یا ان سے وابستہ کسی معاملے کی وجہ سے پارٹی کی بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کمزور ہوتی ہے تو وہ ایسا نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے انہوں نے اتراکھنڈ کانگریس کی ایگزیکٹو اور CWC کے مستقل مدعو رکن کے عہدوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
راوت نے سیاسی ’نریٹو‘ بنانے کا بھی الزام لگایا
سابق وزیر اعلیٰ نے ED کی کارروائی کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی براہ راست ان کے گھر پر نہیں بلکہ ان کے ایک ساتھی کے گھر پر کی گئی اور اس کے ذریعے ایک مخصوص ’نریٹو‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
راوت نے اس معاملے کو آئندہ 2027 کے اتراکھنڈ اسمبلی انتخابات کی سیاسی لڑائی سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق کانگریس بدعنوانی کے خلاف متحد ہو کر لڑ رہی ہے اور ایسے وقت میں وہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے پارٹی کے موقف پر کوئی سوال اٹھے۔
کانگریس کے لیے بھی اہم سیاسی امتحان
ہریش راوت کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اتراکھنڈ میں آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کا سیاسی ماحول بننا شروع ہو چکا ہے۔ راوت ریاست میں کانگریس کے اہم اور تجربہ کار چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا یہ قدم پارٹی کے لیے بھی سیاسی طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایک طرف کانگریس مرکزی حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں پر سوال اٹھاتی رہی ہے، جبکہ دوسری جانب اسے اپنے رہنماؤں اور ان سے وابستہ افراد پر لگنے والے بدعنوانی کے الزامات کا جواب بھی دینا پڑ رہا ہے۔
فی الحال ED کی تحقیقات جاری ہیں اور چندن سنگھ جینا کے خلاف لگائے گئے الزامات کا حتمی فیصلہ تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
