اے آئی، کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی جیو کی اگلی دہائی میں توجہ کا مرکز ہوں گے، ہندوستانی ٹیکنالوجی کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا منصوبہ
ممبئی، 7 ستمبر: ریلائنس جیو نے اپنے قیام کے 10 سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس موقع پر جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے کمپنی کے ملازمین کے نام ایک خط جاری کرتے ہوئے اگلی دہائی کے لیے جیو کے روڈ میپ کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI)، جدید کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی کمپنی کی ترجیحات میں سرفہرست رہیں گی۔
آکاش امبانی نے کہا کہ جیو اب محض ایک ٹیلی کام کمپنی نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ ڈیجیٹل مصنوعات، انٹرپرائز سلوشنز اور مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ کمپنی کا اگلا ہدف ہندوستان میں تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر ملک کے اندر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی مختلف منڈیوں تک پہنچانا ہے۔
مصنوعی ذہانت مستقبل کی بڑی طاقت
آکاش امبانی نے مصنوعی ذہانت کو آنے والے دور کی ایک بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ AI لوگوں اور کاروباری اداروں کے کام کرنے، نئی چیزیں تخلیق کرنے اور مسائل حل کرنے کے طریقوں میں بنیادی تبدیلی لا سکتی ہے۔ جیو اس تبدیلی کو سپورٹ کرنے کے لیے اپنے ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مسلسل ترقی دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیو کی توجہ صرف نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس بات پر بھی ہوگی کہ ان ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر لوگوں اور کاروباری اداروں تک کیسے پہنچایا جائے۔
ٹیلی کام سے آگے بڑھنے کا سفر
اپنے خط میں آکاش امبانی نے جیو کے گزشتہ دس برس کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی کامیابی صرف اعداد و شمار یا کاروباری نتائج کی کہانی نہیں ہے۔ اس سفر کے پیچھے وہ ملازمین ہیں جنہوں نے چیلنجز کو قبول کیا اور صارفین کو مرکز میں رکھتے ہوئے کام کیا۔
انہوں نے جیو کے تمام ملازمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے گزشتہ دہائی میں کئی اہم سنگ میل عبور کیے ہیں، تاہم مستقبل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ باقی ہے۔
مکیش امبانی کے وژن اور رہنمائی کو خراجِ تحسین
آکاش امبانی نے جیو کے سفر کو ممکن بنانے میں اپنے والد اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کے وژن اور رہنمائی کے لیے خصوصی طور پر اظہارِ تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکیش امبانی کے وژن نے جیو کو ایک بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جیو کی دسویں سالگرہ ایسے وقت میں آئی ہے جب کمپنی اپنے اگلے کارپوریٹ مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے اور اس کی فہرست سازی (IPO) سے متعلق عمل بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ تاہم ملازمین کے نام آکاش امبانی کے خط میں بنیادی توجہ IPO کے بجائے ٹیکنالوجی، جدت، عالمی توسیع اور اگلی دہائی کے عزائم پر رہی۔
آکاش امبانی کے مطابق جیو کی پہلی دہائی میں فخر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن کمپنی کے سامنے مستقبل میں اس سے بھی بڑے اہداف موجود ہیں۔
