ریسکیو آپریشن جنگی بنیادوں پر جاری
9 افراد کو ملبے سے نکالا گیا
کانگریس رہنماؤں کا شدید ردعمل، راہل گاندھی نے کہا ہر طالب علم کی زندگی قیمتی ہے
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا
ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
نئی دہلی، 6 ستمبر: دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کی دوپہر ایک پانچ منزلہ عمارت اچانک منہدم ہونے سے بڑا حادثہ پیش آیا۔ عمارت کو طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ (PG) رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حادثے کے بعد متعدد طلبہ سمیت کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاع پر دہلی فائر سروس، پولیس، این ڈی آر ایف اور دیگر امدادی ایجنسیاں جنگی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق تین افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ ملبے سے 9 افراد کو نکالا جا چکا ہے۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے اور یہ خدشہ برقرار ہے کہ کچھ لوگ اب بھی ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں۔
طلبہ کے ملبے میں دبے ہونے کی اطلاع
حادثے کی سنگینی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ عمارت دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب واقع ہے اور علاقے میں بڑی تعداد میں طلبہ PG اور کرائے کی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی افراد کے مطابق ملبے کے نیچے پھنسے بعض افراد کی جانب سے فون کالز بھی موصول ہو رہی تھیں۔ بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی انیل شرما نے بھی کہا کہ امدادی ٹیمیں ملبے میں پھنسے افراد سے رابطے میں ہیں۔
بیسمنٹ میں جاری کام بھی زیرِ تفتیش
ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت میں بیسمنٹ کے اندر مرمت یا تعمیراتی کام جاری تھا جب عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی۔ حکام اس پہلو سمیت دیگر ممکنہ وجوہات کی جانچ کر رہے ہیں۔ تاہم حادثے کی حتمی وجہ کے بارے میں سرکاری تفتیش مکمل ہونے کا انتظار ہے۔
حادثے کے بعد علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ تنگ گلیوں کے باعث ریسکیو ٹیموں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم فائر بریگیڈ، این ڈی آر ایف اور پولیس اہلکار مسلسل ملبہ ہٹانے اور زندہ افراد کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا موقع پر پہنچیں
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ ایجنسیاں باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ترجیح ہر ممکن طریقے سے پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ نکالنا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کا بھی عزم ظاہر کیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، دہلی پولیس کمشنر اور این ڈی آر ایف کے سربراہ سے بات کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور این ڈی آر ایف باہمی رابطے کے ساتھ ریسکیو آپریشن چلا رہے ہیں اور زخمیوں کو ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
راہل گاندھی نے حکومت پر اٹھائے سوال
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ستیہ نکیتن حادثے کو انتہائی افسوسناک اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے ریسکیو ایجنسیوں سے ہر طالب علم تک پہنچنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ملبے میں دہلی یونیورسٹی کے طلبہ سمیت متعدد افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں اور زخمیوں کو فوری طور پر بہترین طبی امداد ملنی چاہیے۔
راہل گاندھی نے طلبہ کے لیے مناسب ہاسٹل سہولتوں کی کمی کو بھی بڑا مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مناسب ہاسٹل نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو بھیڑ بھاڑ والے PG میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے، جہاں بعض اوقات ایک ہی چھت کے نیچے بڑی تعداد میں طلبہ رہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر طالب علم کی زندگی قیمتی ہے اور اس کا ہر حال میں تحفظ ہونا چاہیے۔
راہل گاندھی نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس اور NSUI کے کارکن موقع پر موجود ہیں اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔
پرینکا گاندھی کا بھی ردعمل
کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے بھی ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے واقعے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب پیش آنے والا حادثہ انتہائی جھنجھوڑ دینے والا ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں، جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، کے ملبے میں پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے امدادی اور بچاؤ کارروائی تیز کرنے کی اپیل کی۔
طالب علموں کی رہائش گاہوں کی سیفٹی پر نئے سوالات
ستیہ نکیتن کا علاقہ دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب ہونے کی وجہ سے طلبہ کے PG اور کرائے کے کمروں کا بڑا مرکز ہے۔ حادثے نے ایک بار پھر دہلی میں غیر محفوظ عمارتوں، غیر مجاز تعمیرات، PG رہائش گاہوں کی نگرانی اور عمارتوں کے اسٹرکچرل سیفٹی آڈٹ سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فی الحال سب سے بڑی ترجیح ملبے میں پھنسے افراد کو زندہ نکالنا ہے۔ حادثے کی مکمل وجہ، عمارت کی تعمیر و مرمت کی قانونی حیثیت اور ممکنہ غفلت کی ذمہ داری کا تعین تفتیش کے بعد ہی ہوسکے گا۔
