ستمبر 6, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

دہلی کی عالمی شہرت یافتہ مرکزی یونیورسٹی کی شبیہ ہوئی داغدار، 10طالبات نے پروفیسر پرلگایا جنسی ہراسانی کا الزام

نئی دہلی، 6 ستمبر( ہماری دنیا نیوز): دہلی کی  عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) میں ایک پروفیسر کے خلاف جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد کیمپس میں تشویش کا ماحول ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم 10 طالبات نے مذکورہ پروفیسر کے خلاف یونیورسٹی کی انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی (ICC) میں شکایات درج کرائی ہیں۔ معاملے کی فی الحال یونیورسٹی کی داخلی شکایتی کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔

تقریباً ایک ماہ قبل سامنے آئیں شکایات

رپورٹس کے مطابق طالبات کی جانب سے یہ شکایات تقریباً ایک ماہ قبل ICC کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔ ابتدائی طور پر ایک شکایت سامنے آنے کے بعد مزید طالبات نے بھی مبینہ طور پر اسی نوعیت کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کمیٹی سے رجوع کیا۔

ذرائع کے مطابق شکایت کنندگان میں سینئر طالبات بھی شامل ہیں۔ ان شکایات کے سامنے آنے کے بعد معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ کی توجہ کا مرکز بن گیا اور ICC نے الزامات کی باقاعدہ جانچ شروع کردی۔

گھر پر بلانے اور نامناسب رویے کے الزامات

میڈیا رپورٹس میں شکایت کنندہ طالبات کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پروفیسر انہیں کیمپس میں واقع اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی پارٹیوں یا اجتماعات میں بلاتے تھے۔ بعض طالبات نے مبینہ طور پر وہاں نامناسب رویے اور ناپسندیدہ جنسی پیش قدمی کی شکایت کی ہے۔

کچھ شکایات میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ پروفیسر کلاس کے دوران نامناسب یا فحش تبصرے کرتے تھے۔ تاہم یہ تمام الزامات اس وقت تحقیقات کے مرحلے میں ہیں اور ان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

سینیئر طالبات کے سامنے آنے سے معاملہ سنگین

رپورٹس کے مطابق ابتدائی شکایت کے بعد جب دیگر طالبات، خصوصاً سینیئر طلبہ نے بھی اسی نوعیت کے الزامات سامنے رکھے تو معاملے کی سنگینی مزید بڑھ گئی۔ بعض رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید شکایات سامنے آسکتی ہیں، جن میں سابق طالبات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

ICC کر رہی ہے تحقیقات

جے این یو میں جنسی ہراسانی سے متعلق شکایات کی تحقیقات کے لیے انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی موجود ہے۔ موجودہ معاملے میں یہی کمیٹی شکایت کنندگان کے بیانات اور الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی شکایت کنندہ طالبات سے بات چیت اور ان کے بیانات ریکارڈ کرنے سمیت مقررہ داخلی طریقہ کار کے تحت تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔ ICC سے وابستہ بعض طلبہ نمائندوں نے رازداری کی پابندیوں کے باعث معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

پولیس میں فی الحال شکایت درج نہیں

اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ دہلی پولیس کے مطابق ابھی تک پروفیسر کے خلاف کوئی باقاعدہ پولیس شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔ فی الحال معاملہ یونیورسٹی کے داخلی شکایتی نظام کے تحت زیرِ تفتیش ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ بیان کا انتظار

رپورٹس کے مطابق جے این یو انتظامیہ اور وائس چانسلر کے دفتر کی جانب سے اب تک اس معاملے پر تفصیلی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ یونیورسٹی کی داخلی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی الزامات کی نوعیت اور آئندہ کارروائی کے بارے میں مزید وضاحت متوقع ہے۔

واضح رہے کہ پروفیسر کے خلاف عائد الزامات اس وقت تحقیقات کے مرحلے میں ہیں۔ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، الزامات کو ثابت شدہ جرم کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

کیمپس میں تشویش

ایک ہی پروفیسر کے خلاف متعدد طالبات کی جانب سے شکایات سامنے آنے کے بعد جے این یو میں طلبہ کی سلامتی اور کیمپس میں محفوظ تعلیمی ماحول کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ طلبہ حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قواعد کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

Related posts

ایران: محسن رضائی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری مقرر، پزشکیان نے مذاکرات کا اشارہ دے دیا

Hamari Duniya News

اُتم نگر میں امن و امان کے مؤثر قیام پر اے پی سی آر نے دہلی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو سراہا

Hamari Duniya News

مسابقه برائے قرأت قرآن کریم و خطابت کا انعقاد

Hamari Duniya News