ستمبر 1, 2026
Delhi دہلیRegional News علاقائی خبریںTop News

حقِ تعلیم ایکٹ اور ملک کے نظامِ تعلیم کی صورتحال تشویشناک، ہر سطح پر بیداری مہم چلانے کا اعلان

حقِ تعلیم ایکٹ اور ملک کے نظامِ تعلیم کی صورتحال تشویشناک، ہر سطح پر بیداری مہم چلانے کا اعلان

نئی دہلی: مشن ایجوکیشن کی خصوصی تعلیمی جائزہ میٹنگ میں تعلیمی نظام، فیس، ڈراپ آؤٹ اور اسکولوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

نئی دہلی، 31 اگست: ملک میں حقِ تعلیم ایکٹ کے مؤثر نفاذ، تعلیمی اداروں کی صورتحال، بڑھتی ہوئی فیس اور طلبہ کے ڈراپ آؤٹ سمیت مختلف تعلیمی مسائل پر مشن ایجوکیشن کی جانب سے ترکمان گیٹ کے پھاٹک تیلیان میں ایک خصوصی تعلیمی جائزہ میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں مقررین نے موجودہ نظامِ تعلیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین اور سماجی کارکنوں کو تعلیمی مسائل کے تئیں بیدار اور متحرک ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مشن ایجوکیشن کے قومی صدر شفیع دہلوی نے کہا کہ حقِ تعلیم ایکٹ ہر بچے کے لیے تعلیم کے حق اور اسکول میں داخلے کو یقینی بنانے کی بات کرتا ہے، لیکن دوسری جانب بعض اسکولوں میں داخلے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم اور ماہانہ فیس وصول کیے جانے کے معاملات سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی نظام نے تعلیم کو کاروبار بنا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں غریب اور متوسط طبقے کے والدین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

میٹنگ کی صدارت اینگلو عربک اسکول کے استاد ماسٹر مقصود احمد نے کی۔ اس موقع پر دہلی یوتھ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری محمد تقی نے کہا کہ تعلیمی قوانین اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے عوام میں مطلوبہ بیداری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بیشتر سماجی کارکن بھی اس اہم مسئلے پر سرگرم نظر نہیں آتے، جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی معاملات میں مصروف ہیں۔

دہلی انجمن کے صدر ذاکر حسین نے کہا کہ موجودہ نظامِ تعلیم کے بارے میں مکمل معلومات والدین کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نویں اور گیارہویں جماعت کے بعد بڑی تعداد میں بچے تعلیم چھوڑ رہے ہیں، جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشن ایجوکیشن گھر گھر جاکر والدین اور عوام کو تعلیمی حقوق کے بارے میں بیدار کرے گی۔

مشہور سماجی کارکن عمران خان نے کہا کہ ایک طرف والدین معاشی مشکلات سے دوچار ہیں اور دوسری جانب بعض پبلک اسکولوں کی بھاری فیس ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی شعبے میں مبینہ ناانصافیوں کے خلاف منظم تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

جمیعت القصار کے صدر ڈاکٹر خورشید عالم نے کہا کہ اگر عوام بیدار اور متحد ہو جائیں تو کسی بھی حکومت کے لیے ناانصافی کرنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے تعلیمی حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد پر زور دیا۔

میٹنگ کے مہمان خصوصی جمعیۃ علماء کے خصوصی ناظم مولانا جاوید صدیقی نے کہا کہ تعلیم انسانی زندگی کا بنیادی جزو ہے اور تعلیم کے بغیر انسان کی شخصیت کی تکمیل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سماجی کارکن متحد ہوکر مشن ایجوکیشن کی قیادت میں تعلیمی قوانین کو غیر مؤثر بنانے کی مبینہ کوششوں کے خلاف جدوجہد کریں اور طلبہ و والدین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

اپنے صدارتی خطاب میں ماسٹر مقصود احمد نے کہا کہ ایک طرف حکومت کی جانب سے اسکولوں کو بند کیے جانے کی بات سامنے آ رہی ہے اور پرانی دہلی میں بھی متعدد اسکول بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ دوسری جانب بعض مقامی سماجی کارکن اقلیتوں سے متعلق اسکولوں کے خلاف نااہلی اور ناکارہ ہونے کا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ تعلیمی اداروں کو غیر ضروری طور پر بند ہونے سے بچایا جا سکے۔میٹنگ کے اختتام پر شفیع دہلوی نے اعلان کیا کہ حقِ تعلیم ایکٹ کے مکمل نفاذ، نظامِ تعلیم کی باقاعدہ نگرانی اور طلبہ و والدین کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف مشن ایجوکیشن ہر سطح پر تحریک چلائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عوامی بیداری کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام اور حکومت کے سامنے بھی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔

میٹنگ میں محمد عابد ظفر انصاری، انیس درانی، تبسم اکبر، ظہورالدین اور انیس فاطمہ سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ شرکاء کا شکریہ مشن ایجوکیشن کے سیکریٹری سہیل اختر نے ادا کیا۔

اجلاس میں دہلی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد سماجی کارکنان اور دیگر افراد نے شرکت کی، جن میں شاہ جہاں، مہرالنساء، عاشقین، شہزاد ملک، مقصود علی، جاوید صدیقی، محمد اسلم، فیاض الدین، محمودہ ملک، جمیل انجم، ڈاکٹر اعظمی خاں، منظور احمد، حاجی ریاض الدین اور رضوان دہلوی سمیت دیگر افراد شامل تھے۔

Related posts

 سعودی عرب میں بڑا حادثہ، 14 افراد جاں بحق

Hamari Duniya News

سعودی عرب پر حملہ: خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی

Hamari Duniya News

ہلدوانی بن بھول پورہ معاملہ میں سپریم کورٹ کا اہم حکم، متبادل رہائش کے بغیر انہدامی کارروائی نہیں

Hamari Duniya News