ادب، شاعری، موسیقی، غزل، قوالی اور کلاسیکی رقص کا حسین امتزاج؛ ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کی یاد بھی منائی جا رہی ہے
نئی دہلی، 23 اگست(جاوید مشیری ہماری دنیا نیوز)۔
جشنِ ادب ادبی میلہ اپنی 15ویں سالگرہ کے موقع پر نئی دہلی میں 21 سے 24 اگست تک چار روزہ ادبی و ثقافتی میلے کا انعقاد کر رہا ہے۔ میلے میں ادب، شاعری، کلاسیکی موسیقی، غزل، صوفی موسیقی، قوالی، کلاسیکی رقص اور ہندوستان کی مختلف لوک روایات کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں ملک کی متنوع ثقافتی وراثت کے مختلف رنگ نمایاں ہو رہے ہیں۔
چار روزہ جشنِ ادب کے دوران ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کی یاد بھی منائی جا رہی ہے۔ یومِ آزادی کے جذبے سے سرشار مختلف ثقافتی پیشکشوں، ادبی نشستوں اور موسیقی کے پروگراموں کے ذریعے ہندوستان کی مالا مال تہذیبی و ثقافتی روایت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ میلے کا باقاعدہ افتتاح 21 اگست کو ایک خصوصی افتتاحی تقریب کے ساتھ ہوا۔
پیوش مشرا کے ساتھ ’یہ اداکاری نہیں ہے‘
23 اگست کو میلے کے پروگراموں کا آغاز معروف فنکار پیوش مشرا کے ساتھ ’یہ اداکاری نہیں ہے‘ کے عنوان سے خصوصی پیشکش سے ہوا۔ اس پروگرام میں اداکاری، فن اور تخلیقی اظہار کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو اور پیشکش نے سامعین کی توجہ حاصل کی۔
اس کے بعد ’بانسی کے سُر‘ کے عنوان سے بانسری وادن کا پروگرام پیش کیا گیا، جس میں بانسری کی مسحور کن دھنوں نے ماحول کو موسیقی سے بھر دیا۔
سینما سے ویب سیریز تک کے سفر پر گفتگو
جشنِ ادب کے اہم پروگراموں میں ’سینما سے ویب سیریز تک کا سفر، کیا کھویا کیا پایا‘ کے عنوان سے خصوصی گفتگو بھی ہوئی۔ اس نشست میں اداکار راجیش تیلنگ، منورشی چڈھا اور نروپما کوٹرو نے شرکت کی، جبکہ ڈاکٹر آمنہ مرزا نے گفتگو کی میزبانی کی۔
اس موقع پر راجیش تیلنگ نے ٹیکنالوجی میں آنے والی تبدیلیوں اور اس کے سینما پر پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی نے سینما کو مزید وسیع اور آسان بنا دیا ہے۔ جب جب ٹیکنالوجی بدلے گی، سینما بھی بدلے گا۔ نشست میں فلمی دنیا میں بدلتے رجحانات، او ٹی ٹی پلیٹ فارم اور ویب سیریز کے بڑھتے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
’کہ گھر کب آؤ گے‘ نے باندھا سماں
موسیقی کے پروگراموں میں ’کہ گھر کب آؤ گے‘ کے عنوان سے معروف گلوکار روپ کمار اور سونالی راٹھور نے غزل پیش کی۔ دونوں فنکاروں کی پیشکش نے سامعین کو محظوظ کیا اور ادبی و ثقافتی ماحول میں موسیقی کا خوبصورت رنگ بھر دیا۔
’شبد رنگ‘ مشاعرہ، معروف شعرا نے سجائی شعری محفل
شام کی اہم ادبی پیشکش ’شبد رنگ‘ مشاعرہ و شعری نشست رہی، جس میں ملک کے معروف شعرا اور ادیبوں نے شرکت کی۔ مشاعرے میں پروفیسر وسیم بریلوی، وجیندر پروَاز، اظہر عنایتی، فرحت احساس، عقیل نعمانی، جاوید مشیری، قیصر خالد، کنور رنجیت چوہان، پون کمار، گوتم راج رشی اور رنجن نگم سمیت متعدد شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
مشاعرے میں شاعری کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملے اور شعرا نے محبت، زندگی، سماج، انسانی جذبات اور عصری حالات سے متعلق اپنے اشعار پیش کیے۔ ادبی شائقین نے شعری نشست میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
ادب اور ثقافت کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش
جشنِ ادب کا یہ 15واں سال ہندوستانی ادب اور ثقافت کے مختلف شعبوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ چار روزہ میلے میں ادبی گفتگو، شاعری، موسیقی، تھیٹر، رقص اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستان کی کثیرالجہتی تہذیبی شناخت کو پیش کیا جا رہا ہے۔
24 اگست کو میلے کے اختتامی پروگرام منعقد ہوں گے، جس کے ساتھ جشنِ ادب کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر جاری چار روزہ ادبی و ثقافتی سلسلے کا اختتام ہوگا۔
