اگست 8, 2026
National قومی خبریںTop News

پریاگ راج میں راہل گاندھی کی للکار، ’نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ نہیں ہونا چاہیے‘

’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام میں کانگریس رہنما کا مرکزی حکومت پر شدید حملہ، تعلیم، بے روزگاری، امتحانی نظام اور ڈیٹا کی طاقت پر کھل کر اظہارِ خیال

پریاگ راج، 8 اگست: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے پریاگ راج میں منعقدہ ’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے نوجوانوں اور طلبہ سے متعلق مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کے سامنے تعلیم، روزگار اور مستقبل کا تحفظ سب سے بڑے سوالات ہیں۔

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیوز یعنی ’’ریلز‘‘ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر ریلز دیکھنے میں الجھایا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے حقیقی مسائل، خصوصاً تعلیم اور روزگار کے سوالات سے دور رہیں۔

’’سوشل میڈیا ایک نشہ بن گیا ہے‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ آج سوشل میڈیا نوجوانوں کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اور بڑی تعداد میں نوجوان اپنا قیمتی وقت ریلز اور دیگر مختصر ویڈیوز دیکھنے میں صرف کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا استعمال اپنی جگہ غلط نہیں، لیکن جب یہ انسان کے وقت، سوچ اور توجہ پر قابض ہو جائے تو یہ ایک طرح کے نشے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کر انہیں مسلسل ڈیجیٹل مواد میں مصروف رکھنے کا ایک ماحول تیار کیا جا رہا ہے۔

راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ نوجوانوں کو ریلز میں الجھا کر ان کی توجہ تعلیم، روزگار، مہنگائی اور مستقبل جیسے بنیادی مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔

’’نوجوانوں کو ریلز میں الجھا کر مزدور بنایا جا رہا ہے‘‘

کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک کی نوجوان آبادی کے پاس بے پناہ صلاحیت اور توانائی ہے، لیکن اگر انہیں معیاری تعلیم اور مناسب روزگار کے مواقع نہ ملیں تو یہ صلاحیت ضائع ہو سکتی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کو ایک طرف سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل مصروف رکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف انہیں ایسے روزگار تک محدود کیا جا رہا ہے جہاں انہیں مناسب اجرت اور سماجی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کو صرف سستا مزدور بنانے کے بجائے انہیں ایسی معیشت اور تعلیمی نظام فراہم کرنے کی ضرورت ہے جہاں وہ اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔

تعلیم اور امتحانی نظام پر بھی سوال

’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام میں راہل گاندھی نے ملک کے تعلیمی اور امتحانی نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں طلبہ برسوں تک محنت کرکے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، لیکن امتحانات میں بے ضابطگی، مبینہ پرچہ لیک اور دیگر مسائل ان کی محنت اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کو ایک شفاف اور قابل اعتماد امتحانی نظام ملنا چاہیے، جہاں محنت کرنے والے امیدواروں کو ان کی صلاحیت کے مطابق مواقع حاصل ہوں۔

راہل گاندھی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں اور امتحانی نظام کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

بے روزگاری نوجوانوں کا سب سے بڑا مسئلہ

کانگریس رہنما نے نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کو بھی مرکزی حکومت کے خلاف اپنے حملے کا اہم موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی نوجوان آبادی روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں ہے، لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو مناسب ملازمت نہیں مل رہی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک نوجوان کئی برس تک تعلیم حاصل کرنے اور مسابقتی امتحان کی تیاری کرنے کے بعد بھی روزگار حاصل نہ کر سکے تو اس کی ذمہ داری کس کی ہے؟

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک کی ترقی کا حقیقی پیمانہ اس وقت سامنے آئے گا جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، مستقل روزگار اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں گے۔

’’ڈیٹا آج کی سب سے بڑی طاقت ہے‘‘

راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں ڈیٹا کی اہمیت پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں لوگوں کی معلومات، ان کی پسند، عادات اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق ڈیٹا انتہائی قیمتی ہو چکا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کا ڈیٹا کہاں استعمال ہو رہا ہے اور اس سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔

کانگریس رہنما کے مطابق آج کے دور میں ڈیٹا بھی ایک بڑی اقتصادی اور سیاسی طاقت بن چکا ہے، اس لیے نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا اور اس کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔

’’طلبہ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے مسائل کو صرف سیاسی نعرہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ملک کے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور حکومت کو ان کے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔

’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام کے ذریعے کانگریس طلبہ اور نوجوانوں کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ تعلیم، امتحانات، پرچہ لیک، بے روزگاری اور نوجوانوں کے مستقبل جیسے مسائل کو قومی بحث کا اہم حصہ بنایا جانا چاہیے۔

نوجوانوں پر توجہ، کانگریس کی نئی سیاسی حکمت عملی

سیاسی اعتبار سے بھی ’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام کو کانگریس کی نوجوانوں پر مرکوز حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پارٹی کی کوشش ہے کہ طلبہ، مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرنے والے نوجوانوں اور روزگار کے خواہش مند نوجوانوں کے مسائل کو سیاسی ایجنڈے میں نمایاں کیا جائے۔

پریاگ راج میں راہل گاندھی کا خطاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا اور ریلز سے لے کر تعلیم، روزگار اور ڈیٹا تک کئی اہم موضوعات پر گفتگو کی۔

پریاگ راج کے ’’طلبہ کی گونج‘‘ پروگرام میں راہل گاندھی نے نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق متعدد مسائل اٹھاتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ ان کے خطاب میں سوشل میڈیا اور ریلز کے بڑھتے رجحان کے ساتھ ساتھ تعلیم، امتحانی نظام، بے روزگاری اور ڈیٹا کی اہمیت نمایاں رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت ہیں اور انہیں سوشل میڈیا کی دنیا میں الجھانے کے بجائے معیاری تعلیم، باعزت روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

Related posts

جماعت اسلامی ہند نے یونین بجٹ 2026–27 کے لیے حکومت کو اپنی تجاویز پیش کیں

Hamari Duniya News

ڈائٹ میں معلمین کی عملی تحقیق کی تربیت اختتام پذیر

Hamari Duniya News

یو جی سی کے نئے قوانین کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پرفوری سماعت کیلئے سپریم کورٹ تیار

Hamari Duniya News