کابل سمیت کئی مقامات پر پاکستان کے فضائی حملے، افغانوں کا کئی پاکستانی چوکیوں پر قبضہ کر کے فوجیوں کو مارنے کا دعویٰ
کابل ٰاسلام آباد، 27 فروری ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہائیوں سے چلا آرہا سرحدی تنازعہ جمعہ کو بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہو گیا ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کابل اور قندھار پر بمباری کی ہے۔ اس سے پہلے افغانستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحد پر حملے تیز کر کے بڑی تعداد میں پاکستانی فوجیوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طرف سے بمباری ہو رہی ہے۔
پاکستان کی جانب سے پچھلے ہفتے کیے گئے فضائی حملوں کا جواب دیتے ہوئے افغانستان نے جمعرات کی دیر رات جوابی کارروائی کر کے دعویٰ کیا کہ اس نے ڈورنڈ لائن پر تقریباً 55 پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کر دیا اور پاکستان کی کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کے خلاف ’آپریشن غضب للحق‘ شروع کر کے جمعہ کی علی الصبح کابل، قندھار اور پکتیا میں طالبان کے دفاعی ٹھکانوں پر بمباری کی۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پوسٹ میں کہا، ”بزدل پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا کے کچھ علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں لیکن کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔“ افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پاکستان کے حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایکس پوسٹ میں لکھا، ’پاکستانی طیاروں نے ایک بار پھر کابل، قندھار اور پکتیا پر بمباری کی۔ افغان عوام ہر حال میں مکمل اتحاد کے ساتھ اپنے پیارے وطن کا دفاع کریں گے اور جارحیت کا دلیری سے جواب دیں گے۔ پاکستان خود کو تشدد اور بمباری سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا- یہ مسائل اس نے خود پیدا کیے ہیں لیکن اسے اپنی پالیسی بدلنی ہوگی اور افغانستان کے ساتھ اچھے پڑوسی جیسے تعلقات، احترام اور مہذب تعلقات کی راہ کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘
ٹولو نیوز نے افغانستان کی وزارت دفاع کے بیان کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرمی چیف فصیح الدین فطرت کے حکم پر ڈورنڈ لائن کے قریب پاکستانی فوج کی چوکیوں پر افغان فورسز کی جانب سے کی گئی جوابی کارروائی جمعرات کی رات 12.00 بجے ختم ہو گئی۔ اس مہم میں پاکستانی فوج کے 55 اہلکار مارے گئے۔ افغان فورسز نے کچھ لاشیں اور سینکڑوں ہلکے اور بھاری ہتھیار بھی ضبط کیے اور کئی فوجیوں کو زندہ پکڑ لیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مہم کے دوران، افغان فورسز نے پاکستان کی 19 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر لیا۔ اس مہم میں 8 افغان فوجیوں کی موت ہوئی اور 11 دیگر زخمی ہوئے۔ جبکہ تورخم میں پناہ گزینوں کے لیے بنے عارضی کیمپ پر پاکستان کے فضائی حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد زخمی ہوئے۔ وزارت نے کہا کہ یہ مہم پاکستان کی جانب سے حال ہی میں افغان علاقے پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں چلائی گئی تھی۔
گزشتہ ہفتے پاکستان نے افغانستان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے کیے جس میں افغان انتظامیہ کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 18 افراد مارے گئے۔ حالانکہ پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے پاکستان-افغانستان سرحد پر واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ حملے پاکستان میں حال ہی میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے بعد کیے گئے تھے۔
