کیرانہ، 23 فروری (عظمت اللہ خان)
قصبہ کیرانہ میں فروٹ ریہڑی لگانے والے محنت کشوں نے بعض دکانداروں کے خلاف غیر قانونی وصولی اور ہراسانی کے سنجیدہ الزامات عائد کرتے ہوئے اپنی پریشانیوں کا اظہار کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر ریہڑی کھڑی کرنے کے عوض بھاری رقم طلب کی جا رہی ہے، جس کے سبب غریب ریہڑی چلانے والوں کی روزی روٹی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ایک ریہڑی مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جس دکان کے سامنے وہ اپنی ریہڑی لگاتا تھا، وہاں کے مالک نے اس سے ماہانہ پندرہ ہزار روپے کا مطالبہ کیا۔ اس نے مزید کہا کہ تیترواڑہ روڈ، شاملی بس اسٹینڈ، کاندھلہ روڈ اور چوک بازار کے علاقوں میں سڑک کنارے لگنے والی ریہڑیوں کو پہلے بھی انتظامیہ کی جانب سے ہٹایا جا چکا ہے، اس کے باوجود یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
مقامی باشندوں کے مطابق بازاروں اور سڑکوں پر ریہڑیوں کی کثرت سے راستے تنگ ہو گئے ہیں اور پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ الزام ہے کہ جن دکانوں کے سامنے ریہڑیاں لگتی ہیں وہاں ماہانہ دس سے پندرہ ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث کئی غریب افراد رمضان المبارک کے دوران بھی اپنی ریہڑی لگانے سے محروم رہے۔
اس پورے معاملے میں ایک جانب جہاں محنت کش ریہڑی والوں کو شدید مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، وہیں دوسری جانب مبینہ غیر قانونی وصولی کے سبب سرکاری محاصل کو بھی ہر ماہ بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
