0.5 C
New York
فروری 3, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

قانون کی حکمرانی اور تخلیقی وفورکا سنگم، شیریں ظفر کی کتاب ’’عین رشید خان(مونوگراف )‘‘ کا اجرا

Book Released

کولکاتا، 09 جنوری: مغربی بنگال اردو اکادمی کے زیر اہتمام کلکتہ گرلس کالج میں شعبہ اردو کی لکچررشیریں ظفر کی نئی کتاب مونوگراف ’’عین رشید خان‘‘ کی رسم اجرا ایک پروقار اور علمی تقریب میں ادا کی گئی۔ یہ کتاب ایک ایسی عبقری شخصیت کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے جو بیک وقت پولیس سروس (قانون کی بالادستی) اور شاعری و فلم (ادب کی لطافت) کا نادر سنگم تھے۔
مغربی بنگال اردو اکادمی کے زیراہتمام ہونے والے18واں سالانہ کتاب میلہ کے دوسرے دن بدھ 7 جنوری 2026 کی شام منعقدہ اس تقریب کی صدارت اور کتاب کا اجرا مغربی بنگال اردو اکادمی کی تقریبات کمیٹی کے چیئرمین سید شہاب الدین حیدر اور معروف ادیب و نقادڈاکٹر دبیر احمد (صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج) کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
مصنفہ شیریں ظفر نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ عین رشید خان پر لکھنا ان کیلئے ایک ادبی قرض کی ادائیگی کے مترادف تھا۔ انہوں نے ایک ایسے آئی پی ایس افسر کی زندگی کے گوشوں کو بے نقاب کیا جو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اپنے اندر کے حساس فنکار کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے۔شیریں ظفر نے جہاں کتاب کے محرکات پر روشنی ڈالی، وہیں انہوں نے اکادمی کے ذمہ داران اور علمی سرپرستوں کا تذکرہ نہایت محبت اور عقیدت سے کیا۔شیریں ظفر نے اپنے علمی سفر میں ڈاکٹر نعیم انیس کی حوصلہ افزائی کا بھی بھرپورانداز میں شکریہ ادا کیا۔
بعدازاں نامہ نگاروں سے بات کرتو ہوئے مصنفہ نے سید شہاب الدین حیدر کی اکادمی کے تئیں خلوص نیت نے ادارے کو علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا ہے۔

ڈاکٹر دبیر احمد کی علمی شخصیت کی ستائش کرتے ہوئے شیریں ظفر نے انہیں بنگال میں اردو ادب کا ایک مضبوط ستون قرار دیااورکہاکہ ڈاکٹر دبیر احمد کی علمی وجاہت، تنقیدی شعور اور زبان و بیان پر ان کی گرفت نے بنگال کے ادبی منظر نامہ کوخاص علمی وقار عطا کیاہے۔اس مونوگراف کو طباعت و اشاعت کے مرحلے تک پہنچانے میں  ڈاکٹر دبیر احمدکا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ اکادمی آج تحقیق و تنقید کے جس اعلیٰ معیار پر گامزن ہے اس کے پس پشت ڈاکٹر دبیر احمد کی علمی رہنمائی ہی شامل رہی ہے۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح عین رشید خان نے گوتم گھوش کی فلموں ’پتنگ‘ اور’گڑیا‘ کے مکالمے اور اسکرپٹ لکھ کر قومی سطح کے اعزازات حاصل کئے۔ ان کی دستاویزی فلمBeyond The Himalayas کی بی بی سی اور ڈسکوری پر نمائش ان کے عالمی معیار کے فن کی شاہد ہے۔ علاوہ ازیں، غالب کے کلام کا بنگلہ ترجمہ اور جاوید اختر کی ’ترکش‘ کو بنگالی قالب میں ڈھالنا ان کی لسانی مہارت اور دو تہذیبوں کو جوڑنے کی کامیاب کوشش ہے۔
تقریب کی نظامت معروف ادیب اور محقق ڈاکٹر عمر غزالی نے اپنے مخصوص شگفتہ ادبی اسلوب میں انجام دی۔ تقریب کے شرکا نے اس مونوگراف کو مغربی بنگال کے ادبی منظر نامے کی ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے مصنفہ کی تحقیقی لگن کو سراہا۔

Related posts

جمہوریت کے مفہوم اور اس کے چیلنجز اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت

Hamari Duniya News

Afghanistan Blast : افغانستان میں چینی ریستوراں کے باہرخوفناک دھماکہ،ہلاکتیں

Hamari Duniya News

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا یو اے ای سے اختلافات کا اعتراف

Hamari Duniya News