ریاض،19دسمبر: العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں واقع کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر نے اندرونی کان کی ایک نایاب بیماری کے علاج کے لیے ایک نئی اور جدید طبی تکنیک دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ طریقہ کار جسم کے توازن سے متعلق اندرونی کان کے نہایت حساس حصے کو اعلیٰ درجے کے ڈیجیٹل ماڈلز اور جدید تیاری کی تکنیکوں کے ذریعے ازسرِنو تشکیل دیتا ہے، جس سے علاج انتہائی درست ہو جاتا ہے اور کان کے قدرتی افعال محفوظ رہتے ہیں۔یہ تکنیک ناک، کان اور گلے (ای این ٹی) جراحی کے شعبے کی ٹیم نے انتہائی باریک تھری ڈی پرنٹنگ کے ماہرین کے تعاون سے مکمل طور پر خود تیار کی۔ اس میں متاثرہ حصے کو جسم سے باہر انتہائی درست ڈیجیٹل سمیولیشن کے ذریعے قدرتی ساخت کے مطابق ڈیزائن کیا جاتا ہے، پھر تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے ایک نہایت باریک تہہ تیار کی جاتی ہے جو اصل ساخت سے مکمل مطابقت رکھتی ہے۔ اس طرح اسے درستگی کے ساتھ اپنی جگہ پر واپس لگایا جاتا ہے، بغیر اردگرد کے نازک ٹشوز کو نقصان پہنچائے یا توازن سے متعلق سیال مادوں کی حرکت متاثر کیے۔
عملی اطلاق کے دوران اس تکنیک سے ایک ایسے مریض کا کامیاب علاج کیا گیا جو دو برس سے شدید چکر، توازن کی خرابی، سماعت میں کمی اور آوازوں کے لیے غیر معمولی حساسیت کا شکار تھا۔ مسئلہ اندرونی کان کی بالائی نیم دائرہ نما نالی میں غیر فطری سوراخ کے باعث پیدا ہوا تھا۔ طبی ٹیم نے متاثرہ حصے کے عین مطابق ایک نہایت باریک سانچہ تیار کیا، جس کی مدد سے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے ایک باریک سیلیکان تہہ بنائی گئی، جس سے سوراخ محفوظ انداز میں بند ہو گیا اور مریض کا توازن مکمل طور پر بحال ہو گیا۔یہ نیا طریقہ روایتی علاج سے نمایاں طور پر مختلف ہے، کیونکہ پہلے متاثرہ حصے کو جزوی طور پر ناکارہ بنایا جاتا تھا، جس سے بعض افعال ضائع ہو جاتے تھے، جبکہ یہ تکنیک مرمت کے ذریعے قدرتی صلاحیتوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں اندرونی کان کے پیچیدہ اور مشکل حصوں کے علاج کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
یہ کامیابی ہسپتال کے عزم کی عکاس ہے۔ واضح رہے کہ کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال کو 2025 میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلا اور دنیا بھر میں 15واں بہترین تدریسی طبی ادارہ قرار دیا گیا، جب کہ اسے عالمی سطح پر بہترین اور جدید اسپتالوں کی فہرستوں میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
