فروری 14, 2026
Delhi دہلیRegional News علاقائی خبریںTop News

’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

اردو ادب

ڈیجیٹل عہد میں اردو ادب اپنی شناخت کے ساتھ زندہ اورنئی معنویت پیدا کررہا ہے: پروفیسر سراج اجملی

نئی دہلی،14فروری: عصر حاضر میں کوئی ایک نظریہ ادبی اظہار پر اس طرح حاوی نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں تھا۔ آج کا ادیب پوری آزادی کے ساتھ اپنی انفرادیت، علاقائی و معاشرتی شناخت، ماحولیات، ڈیجیٹل زندگی اور نفسیاتی مسائل کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بنا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سراج اجملی ،شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں اردو اکادمی، دہلی کے زیرِ اہتمام سہ روزہ قومی سمینار ’’اردو ادب کا عصری منظرنامہ: اہمیت اور معنویت‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں اپنے کلیدی خطبے کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا، آن لائن پلیٹ فارمز اور ای کتابوں نے اردو ادب کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نوجوان بھی اردو سے وابستہ ہو رہے ہیں جن کا تہذیبی یا لسانی پس منظر اردو سے مضبوط نہیں رہا۔ ان کے مطابق تخلیقی صلاحیت سے مالا مال شاعر ہر تجربے کو بامعنی ادبی اظہار میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی عصری ادب کی سب سے بڑی قوت ہے۔
اس سے قبل سمینار کے کنوینر پروفیسر احمد محفوظ نے مختصر تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقالہ نگاران کو سمینار کے بنیادی موضوع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی گفتگو کسی ایک مخصوص عہد تک محدود نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس طرح بحث کی معنویت متاثر ہوتی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اردو ادب کی تفہیم کے لیے وسیع تاریخی اور فکری تناظر میں غور و فکر ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ادب میں اصل اہمیت فنکار کی ذات سے زیادہ اس کی تخلیقات کو حاصل ہوتی ہے، اس لیے میر، غالب اور سودا جیسے شعرا کا تخلیقی سرمایہ آج بھی زندہ اور بامعنی ہے۔ انھوں نے سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ادبی صورت حال پر اثرات کو بھی سمینار کی گفتگو کا اہم حصہ قرار دیا۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ اردو، الہٰ آباد یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر علی احمد فاطمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ حقیقی تخلیق محض اطلاعات پر نہیں بلکہ گہرے تجربات اور مشاہدات پر قائم ہوتی ہے جبکہ آج کی بیشتر تخلیقات معلومات کی بنیاد پر لکھی جا رہی ہیں۔ انھوں نے فطرت کے اصول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کسی شے کی زیادتی اس کی کاٹ بھی لے آتی ہے جیسے حد سے زیادہ شور بہرے پن اور حد سے زیادہ روشنی اندھے پن میں بدل جاتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ معاصر اردو ادب میں خوابوں کے ٹوٹنے کا عمل تو نمایاں ہے، مگر خواب دیکھنے کی جرأت کم ہوتی جا رہی ہے حالانکہ خواب کے لیے مقصد حیات اور مقصد حیات کے لیے نظریۂ حیات ناگزیر ہے۔افتتاحی اجلاس کی نظامت جناب مالک اشتر نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دی۔
سمینار کے دوسرے دن منعقد ہونے والے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر غضنفر، پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی اور ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں مختلف علمی و فکری موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے جن میںاردو ناول کی عصری معنویت، جدید اردو افسانہ: موضوعات اور اسالیب، دکن میں اردو ادب کی عصری صورتحال، عصری اردو شاعری میں کلاسیکی عناصر، اردو غزل کی عصری صورتحال، عالمی تناظر میں اردو ادب کی معنویت اور اردو نظم کا عصری تناظر شامل تھے۔اس اجلاس میں مقالہ نگاروں کے طور پر پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر فضل اللہ مکرم، جناب لئیق رضوی، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر آفتاب عالم اور ڈاکٹر رشید اشرف خان نے اپنے مقالات پیش کیے جن پر نہایت سنجیدگی اور فکری گہرائی کے ساتھ گفتگو ہوئی۔مقالات کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے سمینار میں پیش کیے گئے تمام مقالات کو فکری اعتبار سے پرمغز اور موضوعاتی لحاظ سے متنوع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب محض واقعات کے بیان کا نام نہیں بلکہ تخیل کی آنچ سے نکھرتا ہے، ورنہ وہ صحافت یا تاریخ بن کر رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق غزل میں شگفتگی زبان کے حسن سے پیدا ہوتی ہے اور چونکہ زبان و فکر دونوں ارتقا پذیر ہیں، اس لیے ادب بھی تغیر کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل دور میں ادبِ اطفال نئی نسل میں ادبی ذوق پیدا کرنے کا مؤثر وسیلہ بن سکتا ہے۔وہیں اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر غضنفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ ’’عصری ادب‘‘ یا ’’معاصر ادب‘‘ کہتے وقت اس کا دائرۂ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ جب تک یہ حدبندی واضح نہیں ہوگی، اس موضوع پر بامعنی اور منظم گفتگو ممکن نہیں ہو سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگر عصری ادب کے مفہوم اور زمانی و فکری حدود کا تعین ہو جائے تو ادبی مباحث میں بھی زیادہ سہولت اور وضاحت پیدا ہو سکتی ہے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل کے لکھنے والوں نے جو ادب تخلیق کیا ہے، اس میں اردو کے لیے خاص معنویت اور امکانات پوشیدہ ہیں۔ ان کے نزدیک یہ نئی تخلیقات اردو ادب کے مستقبل کو زیادہ معنی خیز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور عصری حسیت کی بہتر ترجمانی کرتی ہیں۔
ظہرانے کے بعد منعقد ہونے والے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر فاروق بخشی اور ڈاکٹر زین رامش نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر محضر رضا نے کی۔ اس اجلاس میںنئی اردو شاعری میں زبان و اسلوب کے تجربات، عصری اردو ادب اور بین المتونی مطالعہ، اردو ادب پر علاقائی تہذیب و ثقافت کے اثرات، اردو تنقید کا عصری منظر نامہ اور اردو تحقیق کا عصری منظرنامہ جیسے اہم موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے۔اس اجلاس کے مقالہ نگاروں میں جناب محمد سہیل احمد صابر، ڈاکٹر عبدللہ امتیاز، جناب شعیب رضا فاطمی، ڈاکٹر شفق سوپوری اور ڈاکٹرجمیل اخترشامل تھے۔اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر فاروق بخشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک باشعور انسان اپنی ذات کا احتساب کرتا ہے اسی طرح زبانیں اور ان کے ذریعے تخلیق پانے والا ادب بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرتا ہے۔ انھوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ ادب جمود کا شکار ہو چکا ہے اور اب معیاری تخلیق سامنے نہیں آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اصل بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہمارا رشتہ کتابوں سے کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ عصری منظرنامے میں اردو فکشن اور شاعری دونوں میدانوں میں نہایت عمدہ اور بامعنی تخلیقی کام ہو رہا ہے۔جبکہ اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر زین رامش نے کہا کہ عصرحاضر میں زبان اور اسلوب کے حوالے سے نہایت اہم اور کامیاب تجربات کیے جا رہے ہیں۔ خواہ دیہی علاقے ہوں یا بڑے شہر اور قصبات، ہر خطے کے شعرا اور ادبا سرگرمی کے ساتھ تخلیقی عمل میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تہذیب اور ثقافت نے پورے ملک کے ادب پر گہرے اور نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں جس کے باعث اردو ادب میں تنوع، تازگی اور فکری وسعت پیدا ہوئی ہے۔
سمینار میں ادبی و علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر شمس اقبال، پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر مظہر احمد، پروفیسر ابو شہیم خان، پروفیسر مشتاق احمدقادری، پروفیسر احمد امتیاز، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر خان محمد رضوان، حبیب سیفی، ڈاکٹر ارشد ندوی،ڈاکٹر ابوظہیرربانی، ڈاکٹر خالد رضا، ڈاکٹر اظہار ندیم، ڈاکٹر نثار احمد خان، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر شاہنواز فیاض ، ڈاکٹر جمیل اختر،ڈاکٹر امیر حمزہ ، ڈاکٹر ابراہیم افسر، ڈاکٹر حبیب الرحمن کے علاوہ ریسرچ اسکالرز کی کثیر تعداد شامل تھی۔

Related posts

کیا ہے ایپسٹین فائل؟ جس میں ہے وزیراعظم نریندر مودی کا نام، ہنگامہ برپا

Hamari Duniya News

عالمی اردو کانفرنس : اردو اور اس کے مصنفین نے دیگر زبانوں اور تہذیبوں کو بھی متاثر کیا: امتیاز حسنین

Hamari Duniya News

انڈیگو نے ڈی جی سی اے کی سختی کے بعد گھریلو ہوائی اڈوں پر خالی کئے 717 سلاٹ

Hamari Duniya News