24.2 C
New York
ستمبر 11, 2026
International بین الاقوامی خبریںTop News

طالبان نے ٹرمپ کا امریکی ہتھیاروں کی واپسی کا مطالبہ مسترد کردیا، کہا: فوجی سامان افغان ریاست کی ملکیت

کابل،10 ستمبر: افغانستان میں طالبان حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے کہ 2021 میں سابق افغان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں رہ جانے والا امریکی فوجی سازوسامان اور ہتھیار واپس کیے جائیں۔ طالبان کا مؤقف ہے کہ سابق افغان سکیورٹی فورسز کو فراہم کیا گیا یہ سامان اب افغان ریاست کے اثاثوں کا حصہ ہے اور اسے کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ افغانستان میں موجود فوجی سازوسامان ریاستی اثاثوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق ریاستی املاک کے معاملے میں کسی قسم کا سودا یا مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

عبدالقہار بلخی نے امریکی مؤقف کے جواب میں کہا کہ اگر واشنگٹن اس سامان کی قیمت امریکی ٹیکس دہندگان کی جانب سے ادا کیے جانے کا حوالہ دیتا ہے تو افغانستان بھی جنگ کے دوران ہونے والی تباہی اور جانی نقصان کا معاملہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے طویل جنگ کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کی جانیں گئیں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔ ایسے میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ امریکا کو پہلے جنگ کے نقصانات کا حساب نہیں دینا چاہیے؟

تقریباً 7 ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان طالبان کے قبضے میں

امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق افغانستان میں سابق افغان سکیورٹی فورسز کے پاس تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فراہم کردہ اسلحہ اور فوجی سازوسامان موجود تھا۔ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد یہ تمام سامان بڑی حد تک طالبان کے کنٹرول میں چلا گیا۔

اس سازوسامان میں مختلف نوعیت کے ہتھیار، فوجی گاڑیاں، مواصلاتی آلات اور دیگر دفاعی وسائل شامل تھے۔ افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی اس فوجی سامان کی ملکیت اور مستقبل کے استعمال کا معاملہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلاف کا باعث بنا ہوا ہے۔

ٹرمپ بار بار سامان واپس کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں

وائٹ ہاؤس میں دوبارہ واپسی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ افغانستان میں موجود امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی وسائل سے خریدے گئے فوجی سازوسامان کو افغانستان میں چھوڑ دیا جانا قابلِ قبول نہیں اور اسے امریکا کو واپس کیا جانا چاہیے۔

تاہم طالبان حکومت اس معاملے پر اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی لانے کے لیے تیار نظر نہیں آتی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سابق افغان حکومت کے فوجی اثاثے افغانستان کی ریاستی ملکیت بن گئے ہیں۔

طالبان پہلے بھی امریکی ہتھیار واپس کرنے سے انکار کرچکے ہیں

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب طالبان نے امریکی ہتھیاروں کی واپسی سے انکار کیا ہو۔ مارچ 2025 میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی واضح کیا تھا کہ سابق افغان حکومت کو فراہم کیے گئے امریکی ہتھیار اب افغانستان کی ملکیت ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ طالبان حکومت ان ہتھیاروں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کرے گی۔ اس بیان سے واضح ہوگیا تھا کہ کابل اور واشنگٹن کے درمیان اس معاملے پر اختلاف آسانی سے ختم ہونے والا نہیں۔

امریکی شہریوں کی رہائی پر رابطے جاری

فوجی سازوسامان کے معاملے پر شدید اختلافات کے باوجود امریکا اور طالبان حکومت کے درمیان بعض دیگر معاملات میں رابطے جاری رہے ہیں، خصوصاً افغانستان میں زیرحراست امریکی شہریوں کی رہائی کے حوالے سے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال مارچ میں طالبان نے ڈینس کوئل نامی امریکی شہری کو ایک سال سے زیادہ عرصے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق اس رہائی سے متعلق مذاکرات فروری کے اواخر سے دونوں فریقوں کے درمیان جاری تھے۔

تاہم ڈینس کوئل کی رہائی کے باوجود امریکا اور طالبان کے درمیان تمام اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ واشنگٹن اب بھی طالبان حکومت سے افغانستان میں موجود دیگر امریکی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ہتھیار اور زیرحراست امریکی شہری اہم تنازعات

افغانستان میں امریکی فوجی سازوسامان کی موجودگی اور امریکی شہریوں کی حراست دو ایسے معاملات ہیں جن پر واشنگٹن اور طالبان حکومت کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔ ایک طرف امریکا اپنے فراہم کردہ اربوں ڈالر کے فوجی سامان کی واپسی چاہتا ہے، جبکہ طالبان اسے افغانستان کے ریاستی اثاثوں کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی شہریوں کی رہائی کا معاملہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی رابطوں کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آنے والے دنوں میں واشنگٹن اور کابل ان متنازع معاملات پر کسی مفاہمت تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔

Related posts

امریکہ و اسرائیل کی ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی شدید مذمت، اقوام متحدہ فوری جنگ بندی اور مداخلت کو یقینی بنائے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

Hamari Duniya News

 سعودی عرب میں بڑا حادثہ، 14 افراد جاں بحق

Hamari Duniya News

عوامی جذبات اور نوجوانوں کی آواز کو نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں ہے: ایف آئی اسماعیلی

Hamari Duniya News