بارہ مولہ( کشمیر)، 12 فروری:پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن (پی وی ایف) کے زیرِ اہتمام قومی تعلیمی بیداری مہم کے تحت ضلع بارہ مولہ کے رفیع آباد علاقے لڈو لادورہ میں ایک بامقصد اور مؤثر تعلیمی کانفرنس کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس کانفرنس کی قیادت نظیر احمد میر نے کی، جبکہ بڑی تعداد میں سماجی کارکنان، اساتذہ، طلبہ اور معزز شہریوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی ٹیم کے اراکین میں مشتاق احمد لون، محمد شفیع بھٹ، عامر احمد خان، فیاض احمد بھٹ، شاناز احمد میر، فیاض احمد لون اور عبدالحمید وار موجود رہے۔وہیں خواتین ٹیم کی نمائندگی فریدہ بیگم، شائستہ بانو، فاطمہ بیگم، شبنم بیگم، جبانہ بانو، دلشاد بیگم اور ثریا تبسم نے کی۔ اس کے علاوہ دیگر معززین علاقہ نے بھی کانفرنس میں شرکت کر کے پروگرام کو وقار بخشا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم ہی ترقی، خود انحصاری اور قومی استحکام کی مضبوط ترین بنیاد ہے، جو ہر شہری کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں مضبوطی کے بغیر نہ فرد کی ترقی ممکن ہے، نہ سماج کی اور نہ ہی ملک کی ہمہ جہت پیش رفت ممکن ہے۔مقررین نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ مرکزی حکومت و ریاستی حکومت کی جانب سے جاری مختلف تعلیمی اور فلاحی اسکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، غیر ضروری اخراجات سے اجتناب کریں اور سماج میں انسانیت، بھائی چارے اور باہمی احترام کے پیغام کو فروغ دیں۔
خواتین کی تعلیم پر خصوصی زور دیتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں خواتین کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری اور جدید تعلیم سے بھی آراستہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاکہ وہ سماج کی تعمیر و ترقی میں ایک مؤثر اور فعال کردار ادا کر سکیں۔
کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر معراج راعین نے تمام ذمہ داران، منتظمین اور کارکنان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کی وادیوں میں بسنے والے عوام مختلف طرح کی سماجی اور تعلیمی پسماندگی کا شکار ہیں، ایسے میں یہاں تعلیمی بیداری وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پسماندہ طبقات کی پسماندگی دور نہیں ہوگی، ملک حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔
معراج راعین نے مزید کہا کہ پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن ملک کے ہر کونے میں بالخصوص تعلیمی بیداری اور خواتین کی بااختیاری کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور امید ہے کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر ممکن ہو سکے گی۔آخر میں شرکاء نے پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کی ان تعلیمی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
