مدرسہ انعام العلوم مظفر نگر میں عظیم الشان جلسۂ مبارک بادی برائے حفاظ
کیرانہ، 22 جنوری (عظمت اللہ خان)۔
مظفر نگر کے معروف دینی ادارہ مدرسہ اسلامیہ انعامُ العلوم میں منعقدہ عظیم الشان جلسۂ مبارک بادی برائے حفاظ نہایت روح پرور اور ایمان افروز ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ اس بابرکت اجلاس کی صدارت مولانا خالد زاہد قاسمی نے فرمائی، جبکہ سراجُ الملّت حضرت مولانا بلال تھانوی نے اپنے فکر انگیز اور ولولہ آفریں خطاب میں امتِ مسلمہ کو علم و قرآن سے وابستگی کا مؤثر پیغام دیا۔
مولانا بلال تھانوی نے خطاب کے دوران فرمایا: “تم نے مکتب سے نفرت رکھی، علم سے نفرت رکھی اور اہلِ علم کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، اس کا انجام آج ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علم سے دوری ہمیشہ بربادی کا سبب بنی ہے۔” انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں اپنی تمام تر قوت و وسائل کے باوجود کمزوروں کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر اہلِ فلسطین کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ قرآن کے عاشق ہیں اور ان میں پورے پورے حافظِ قرآن موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ محض کہانیاں نہیں بلکہ زندہ حقیقتیں ہیں کہ کہیں ایک ماں نے پورے گھر کو قرآن سے آراستہ کر دیا اور کہیں ایک باپ نے اپنے گھر کو دین کا مضبوط قلعہ بنا دیا۔ سات سات سال کے بچے قرآنِ کریم حفظ کر رہے ہیں اور تلاوتِ قرآن کا یہ عالم ہے کہ آدھی آواز سن کر بھی دل لرز اٹھتا ہے۔ انہوں نے حاضرین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں یہاں سے یہ سبق لے کر جانا چاہیے کہ اپنی زندگی رسولِ اکرم ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں گزاریں، آپ ﷺ نے جن چار خوبیوں کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے کم از کم ان میں سے ایک خوبی کو ضرور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور پانچویں قسم میں شامل ہونے سے خود کو بچائیں۔
آخر میں انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو دینی علم سے آراستہ کریں اور قرآن سے جوڑیں، کیونکہ یہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
اس موقع پر ادارہ کے مہتمم مولانا گلزار قاسمی نے اپنے مختصر خطاب میں تمام معزز مہمانان، علماء کرام، والدین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مدرسہ کا مقصد محض تعلیم نہیں بلکہ صالح کردار کی تعمیر ہے، اور یہ کامیابی اللہ کے فضل اور اہلِ خیر کے تعاون کا نتیجہ ہے۔
تقریب کے دوران ۹ حفاظ طلبہ کی دستاربندی عمل میں آئی، جبکہ ۱۶ طلبہ و طالبات نے ناظرۂ قرآنِ کریم مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی۔ دارالعلوم دیوبند کے مبلغ مولانا محمد یامین قاسمی سمیت دیگر علماء کرام نے بھی مؤثر بیانات پیش کیے۔ بچوں نے خوبصورت دینی و ثقافتی پروگرام پیش کر کے حاضرین کے دل موہ لیے۔ اجلاس میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندانِ توحید نے شرکت کر کے اس بابرکت محفل کو یادگار بنا دیا۔
خصوصی شرکاء میں قاری عباس،مفتی عین الدین،مفتی نعیم،مولانامزمل،مولانا زین الدین ،مولانا عتیق الرحمن ،قاری نصیر،مفتی شاہنواز ،قاری نذر محمد، مولانامحمد احمد، مولانا محمد سفیان مفتاحی ،قاری محمد ساجد خان،ڈاکٹر عظمت اللہ خان،قاری انعام اور مولانا محمد حارث خان کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔
