13.9 C
New York
مارچ 21, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

انسان کی حقیقی کامیابی قرآن کریم کے فہم وتدبر اور اس کی پیروی میں مضمر ہے:پروفیسر مظہر آصف

انسان

قرآنی تعلیمات کا عمل، اخلاص اور خیر رسانی ہے:پروفیسر اسلم پرویز
قرآن ہمیں سائنسی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے:پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی
شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے تحت”قرآن اور سائنس“پر سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کا آغاز
،نئی دہلی، 28جنوری: ”انسان کی حقیقی کام یابی قرآن کریم کے فہم، اسی کے تدبر اور اسی کی پیروی میں مضمر ہے۔المیہ یہ ہے کہ جو قرآن کبھی زندہ قوموں کی زندگی بدل دینے والی قوت تھا، جو اخلاق و کردار کی تعمیر اور گناہوں سے حفاظت کا حصار تھا، وہ اب محض مردوں پر پڑھنے کی ایک رسم بن کر رہ گیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قرآن کو پھر سے زندگی کی شاہراہ بنائیں،اسے سمجھ کر پڑھیں، دل میں اتاریں، کردار میں سمیٹیں اور اسے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کی نبض بنا لیں۔“ان خیالات کا اظہار پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز،ولایت فاؤنڈیشن اور شہید بہشتی یونی ورسٹی تہران،ایران کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والے تیسرے سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان ”قرآن اور سائنس“ کی افتتاحی تقریب میں دوران صدارت کیا۔انہوں نے سامعین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ دین کی اصل روح یہی ہے کہ انسان اپنے کسی بھی قول، رویّے یا حرکت سے کسی کو اذیت نہ پہنچائے۔مہمان خصوصی پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآن کریم کی متعدد آیات ہمیں سائنسی حقائق کی طرف متوجہ کرتی ہیں —پانی کی تخلیق، کائنات کی وسعت، انسان کا مٹی سے وجود میں آنا، آسمانوں کے قائم ہونے کا نظام، اور دو سمندروں کے درمیان حائل وہ پردہ جس کے باعث ان کا پانی ایک دوسرے میں مدغم نہیں ہوتا—یہ سب نشانیاں اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ قرآن نہ صرف ہدایت کی کتاب ہے، بلکہ وہ کائنات کے سائنسی اصولوں کی طرف بھی رہ نمائی کرتا ہے۔پروفیسر اسلم پرویز،سابق شیخ الجامعہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد نے اپنے کلیدی خطبہ میں فرمایا کہ قرآن و سنت سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ محبت محض باتوں اور دعووں کا نام نہیں، بلکہ عمل سے ظاہر ہونے والی حقیقت ہے۔ اسی طرح قرآن اپنے ماننے والوں کو یہ اصول بھی دیتا ہے کہ ضرورت سے زائد کو راہِ خیر میں خرچ کیا جائے، تاکہ انسانیت نفع پائے اور معاشرہ متوازن ہو۔پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈائریکٹر سمیناروصدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے فرمایا کہ قرآنِ کریم انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں کو بصیرت اور سلیم العقل نگاہ سے دیکھے اور ان میں پوشیدہ حکمتوں کو سمجھ کر اپنی فکری و عملی زندگی کو بہتر بنائے۔ مہمان اعزازی پروفیسر اخترالواسع نے فرمایا نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور سائنس دونوں ایک ہی سرچشمہ حقیقت—اللہ تعالیٰ—کی طرف رہ نمائی کرتے ہیں۔ قرآن اصول دیتا ہے اور سائنس ان اصولوں کی تفہیم کا راستہ دکھاتی ہے۔پروفیسر سید شاہد علی،سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی تہذیب کے ابتدائی ادوار ہی سے قرآن نے کائنات کے مشاہدے، عکاسی، استدلال اور عمیق غور و فکر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ وحی کی سب سے پہلی آیت انسان کو یہ تعلیم دیتی ہے کہ اپنے رب کے نام سے پڑھو—یعنی علم حاصل کرنا محض ایک دنیاوی ضرورت نہیں، بلکہ ایک مقدس عمل اور عبادت کا درجہ رکھتا ہے۔مہمان اعزازی جمیلہ سادات علم الہدیٰ،ایران نے فرمایانوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا تعلق قرآن سے مضبوط کریں، کیوں کہ اسی میں ان کی فکری سلامتی اور عملی کام یابی کا راستہ پوشیدہ ہے۔ڈاکٹر محمد فتح علی،سفیر ایران در ہند نے فرمایا کہ قرآن کو اس کے معنی و مفہوم کے ساتھ سمجھ کر پڑھنا نہایت ضروری ہے، کیوں کہ متعدد آیات انسان کو تدبر، غور و فکر اور حکمتِ قرآنی کی گہرائیوں تک رسائی حاصل کرنے کی طرف واضح اشارہ کرتی ہیں۔مہمان اعزازی پروفیسر عبدالماجد حکیم الٰہی،نمائندے سپریم لیڈر،ایران نے کہاجدید دنیا کے پیچیدہ سائنسی اور سماجی چیلنجز ہمیں اس حقیقت تک لے آتے ہیں کہ قرآن کا مقصد انسان کے شعور کو بیدار کرنا اور اسے تخلیقِ کائنات کے اندرون میں پوشیدہ حکمتوں کے قریب لانا ہے۔مہمان اعزازی انجینئر مصطفی عباس، کویت نے فرمایا کہ قرآن چاہتا ہے کہ ہمارے دل و دماغ ہمیشہ فکر، غور اور تدبر کی حالت میں رہیں، تاکہ ہم کائنات کے اسرار کو صحیح بنیادوں پر سمجھ سکیں۔ سید کلب جواد نقوی نے فرمایا کہ قرآن کو سائنس کے تابع نہیں،بلکہ سائنس کو قرآن کی روشنی میں سمجھنا ہی درست علمی طریقہ ہے۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر محمد منور کمال کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔نظامت کے فرائض جناب جنید حارث،ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیز اورڈاکٹر مہدی باقر نے انجام دیے۔کلمات تشکر ڈاکٹر محمد مشتاق،ایسوسی ایسٹ پروفیسر،شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے ادا کیے۔اسی دوران مہمانوں کا شال،مومنٹو اور گلدستوں سے استقبال کیا گیا۔

Related posts

آئی یو ایم ایل :گورنر کو ہندوستانی آئین کے ذریعہ فراہم کردہ اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہئے 

Hamari Duniya News

کینیڈا میں اسکول میں فائرنگ، حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک، 25 زخمی ہوگئے

Hamari Duniya News

سفرِ عمرہ سے واپسی پر مولانا بلال بجرولوی کا روح پرور بیان، سعودی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین

Hamari Duniya News