عدم تشدد اور باہمی رواداری ہندوستان کی روح ہے: وجے گویل
بین المذاہب ہم آہنگی اور حب الوطنی کو فروغ دینے میں اردو اہم کردار ادا کر رہی ہے: خواجہ افتخار احمد
انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں انٹر فیتھ ہارمونی فاونڈیشن آف انڈیا اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے باہمی اشتراک سے بین المذاہب ہم آہنگی کے عنوان سے یک روزہ سمینار کا انعقاد
نئی دہلی،17فروری۔ آج انڈیا انٹرنیشنل سینٹر، نئی دہلی میں انٹر فیتھ ہارمونی فاونڈیشن آف انڈیا اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے باہمی اشتراک سے بین المذاہب ہم آہنگی کے عنوان سے یک روزہ سمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سمینار میں مختلف موضوعات پر تین سیشن منعقد ہوئے۔ افتتاحی سیشن بعنوان "اردو: بین المذاہب ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی زبان ” کی صدارت پروفیسر قاضی عبید الرحمٰن ہاشمی نے کی اور جناب وجے گویل (وائس چیئرپرسن، گاندھی اسمرتی اور درشن سمیتی،حکومت ہند) بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ جبکہ مقررین میں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال اورانٹر فیتھ ہارمونی فاو¿نڈیشن آف انڈیا کے بانی وصدر ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد کے علاوہ جناب فیروز بخت احمد (سابق چانسلر، مانو، حیدر آباد)، جناب خورشید ربانی ایڈیٹر (منصف ٹی وی) شامل رہے۔ اس کی نظامت جناب جاوید رحمانی نے کی اور کلمات تشکر جناب فوزان احمد خواجہ نے ادا کیے۔
ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے سمینار کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہندوستان کی زبانوں میں ایک خاص تہذیب شامل ہے۔ اردو ایک مشترکہ وراثت کی زبان ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ دنیا میں اگر کوءملک ہے جس میں تمام مذاہب کو آزادی حاصل ہے تو وہ ہندوستان ہے۔ ڈاکٹر شمس اقبال (ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس موضوع کا تعلق جتنا زبان و ادب سے ہے اتنا ہی سماجی ڈسکورس سے بھی ہے۔ اردو نے ابتدا سے ہی ہندوستانیت اور اس کی تہذیبی شناخت کو مرکز میں رکھا ہے، انہوں نے آگ کا دریا اور کئی چاند تھے سر آسماں جیسے ناولوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اردو کے متعدد شعرا کا کلام مشترکہ تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ مہمان خصوصی جناب وجے گویل نے کہا کہ مذہب کی بنیاد تعلیم اور اخلاقیات پر ہے،اپنے بڑوں کی اچھی باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی اتباع کرنی چاہیے، مذہب ہمیں سچائی اور عدم تشدد کی تعلیم دیتا ہے۔ اس کے نام پر لڑنا درست نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو خالص ہندوستانی زبان ہے جو یہیں پیدا ہوئی، کوئی بھی زبان کسی خاص طبقے کی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ زبان کا تعلق سب کے ساتھ یکساں ہوتا ہے۔ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں تمام زبانیں پنپ سکتی ہیں اور تمام مذاہب اور تہذیب کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔
صدارتی تقریر پیش کرتے ہوئے پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے کہا اردو زبان لنگوا فرینکا ہونے کی وجہ سے ہمیشہ سے مشترکہ تہذیب و ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے،فلم انڈسٹری اور صوفیا کی خانقاہیں بھی اس زبان کے اثرات سے معمور رہی ہیں۔ انھوں نے قومی کونسل کی موجودہ سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال اور انٹر فیتھ ہارمونی فاونڈیشن کے بانی خواجہ افتخار احمد کو پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔ پہلے مقرر جناب فیروز بخت احمد نے کہا کہ اردو مذہب کی نہیں وطن کی زبان ہے۔ یہ زبان نہیں جنون ہے،یہ مشترکہ تہذیب کی زبان ہے اس کے مصنفین بھی الگ الگ مذاہب سے متعلق ہیں۔ دوسرے مقرر جناب خورشید ربانی نے کہا کہ مشترکہ تہذیب کو فروغ دیتے ہوئے ملک کے حالات کو بہتر بنانے میں اردو ٹی وی جرنلزم نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔ سمینار کے دوسرے سیشن میں "میڈیا اور عوامی مباحثے میں بین المذاہب اخلاقیات” کے موضوع پر گفتگو کی گئی، جس میں بحیثیت مہمان خصوصی جسٹس اقبال احمد انصاری(سابق چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ،پٹنہ) نے شرکت کی جبکہ مقررین میں ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد،ڈاکٹر دنیش دوبے، جناب ایم ودود ساجد اورجناب محمد وجیہ الدین شامل رہے۔ اس کی نظامت ڈاکٹر آیوشی کیتکر نے کی۔
اس سیشن کے مہمان خصوصی جسٹس اقبال احمد انصاری نے کہا کہ ہم بنیادی طور پر آدمی ہیں جبکہ ہمیں آدمی سے زیادہ انسان بننے کی ضرورت ہے جو وقت،حالات اور سماج کی بھلائی کے لیے سب سے بڑا تقاضا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو چوٹ نہ پہنچائیں۔ یہ کثیر لسانی،مذہبی اور تہذیبی ملک ہے اس لیے یہاں بین المذاہب مکالمے کی زیادہ ضرورت ہے۔سیشن کے پہلے مقرر ڈاکٹر دنیش دوبے نے کہا کہ جب کوئی آئین نہیں تھا اس وقت بھی مذہب تھا،مذہب نے ہی تہذیب کو روشنی پہنچائی۔
انھوں نے الگ الگ مذاہب کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا کہ انسان کے لیے بنیادی چیزمحبت ہے اور انسانی زندگی کے لیے روحانی پہلو بہت ہی اہم ہیں۔ دوسرے مقرر جناب ایم ودود ساجد نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بین المذاہب ہم آہنگی کو واضح کیا،اور مذہب اسلام کے تصورانسانیت پر روشنی ڈالی۔ سیشن کے آخری مقرر جناب محمد وجیہ الدین نے میڈیا کے کارناموں اور ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کلمات تشکر جناب فائنان احمد خواجہ نے ادا کیے۔
اختتامی سیشن میں "بین المذاہب روایات اور بھارت کا مشترکہ ثقافتی ورثہ” کے عنوان سے مقررین نے اظہار خیال کیا۔اس کی صدارت پروفیسر خواجہ عبد المنتقم نے کی جبکہ بحیثیت مہمان خصوصی پروفیسر محمد افشار عالم (وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد) شریک ہوئے۔ ڈاکٹر خواجہ افتخاراحمد، ڈاکٹر محمد شمس اقبال، پروفیسر دویہ تنور،پروفیسر محمد قطب الدین، پروفیسر ذاکر خان ذاکر اور جناب فائنان احمد خواجہ، بطور پینلسٹ شریک ہوئے۔
نظامت ڈاکٹر آمنہ مرزا نے کی۔مہمان خصوصی پروفیسر افشارعالم (وائس چانسلر جامعہ ہمدرد)نے کہا کہ ہندوستان ایک روحانی سرزمین ہے،ہمارا مشترکہ ثقافتی ورثہ بہت ہی ثروت مند ہے،یہاں کے صوفیوں اور رشی منیوں نے اپنے اخلاقی عمل اور روحانی تعلیمات سے اس ورثہ کو تقویت عطا کی جس کے اثرات آج بھی ہمارے یہاں نمایاں ہیں،ہمیں اپنی مشترکہ ثقافتی وراثت، اخلاق، ہم آہنگی اور احترام کو عملی طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔اس سیشن میں صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے پروفیسر خواجہ عبد المنتقم نے کہا کہ ہمارا ملک ہمیشہ سے مشترکہ تہذیب کا گہوارہ رہا ہے اور تنوع کے باوجود یہاں باہمی احترام اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
خواجہ افتخار احمد نے کہا کہ ہندوستان انسانیت کی ابتدا کی سرزمین ہے۔ اسی طرح فائنان احمد خواجہ نے کہا کہ ہندوستان کی بنیادی شناخت اخلاقی کردارہے۔ پروفیسر ذاکر خان ذاکر نے ہندوستان کی مذہبی اور تہذیبی تاریخ کی روشنی میں بین المذاہب اور مشترکہ ثقافتی ورثہ کو واضح کیا۔ دوسرے مقرر پروفیسر محمد قطب الدین (جے این یو) نے ہندوستان کی مشترکہ ثقافتی وراثت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کی تاریخی روایات کا ذکرکیا اور کہا کہ بین المذاہب مکالمے کو اسکولوں اور کالجوں میں بھی عملی طور پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
پروفیسر دویہ تنور(بانی دویہ فاو¿نڈیشن) نے بین المذاہب ہم آہنگی کے عملی اقدامات پر گفتگو کی اور اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل اور بچوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری مشترکہ ثقافتی روایات کیا ہیں اور اس کے اثرات ہمارے لیے کتنے سود مند ہو سکتے ہیں۔ اس سمینار کا اختتام قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کے کنکلوڈنگ ریمارکس اور اظہار تشکر پر ہوا۔ سمینار کے موضوع کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اس پیغام کو ہندوستان کے کونے کونے تک لے جانے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے داراشکوہ اور دیگر شخصیات کی اہم مطبوعات پر روشنی ڈالی اور اردو کے مدھوبن میں رادھا کرشن، خسرو دریا پریم کا، داستان کہت کبیر جیسے پروگراموں کا تذکرہ کرتے ہوئے مشترکہ ہندوستانی تہذیب کے فروغ میں قومی اردو کونسل کی اہم کاوشوں کا ذکر کیا اور سمینار میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
