4 C
New York
فروری 16, 2026
National قومی خبریںTop News

کون ہیں کیرالہ کے مسلم مذہبی رہنما شیخ ابو بکر جنہوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے کی ملاقات

شیخ ابو بکر

نئی دہلی،16فروری(محمد اویس)۔
کیرالہ کے ایک مسلم مذہبی رہنما اور آل انڈیا سنی جمعیة علماءکے جنرل سکریٹری شیخ ابو بکر نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک کی اقلیتی برادریوں کو درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ مختلف قومی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ کیرالہ میں حالیہ ’انسانیت کے ساتھ ملاقات‘ مہم کے دوران، انہیں وزیر اعظم کے ساتھ معاشرے کے مختلف طبقوں سے موصول ہونے والی تشویشات اور درخواستوں کو شیئر کرنے کا موقع ملا۔

انہیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے حوالے سے اپنا پیغام دینے کا موقع بھی ملا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ سنی جمعیت علماءاور جامعہ مرکز کی قیادت سے واقف ہیں اور ان کے تعلیمی اور سماجی بہبود کے کاموں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس طرح کا کام، جو عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے، واقعی قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت معاشرے کے تمام طبقات کی ترقی کی ضرورت پر مرکوز تھی۔

وزیراعظم نریندر مودی

اقتصادی ترقی کے ساتھ ہیپی نیس انڈیکس اور انسانی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کی اہمیت،آبادی کے تناسب اور علاقائی توازن کی بنیاد پر وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا، وقف اور ایس آئی آرسے متعلق خدشات،تاریخی مساجد اور اسلامی ورثے اور یادگاروں کا تحفظ، اور مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ سمیت اقلیتی تعلیمی بہبود کی اسکیموں کا دوبارہ آغاز۔ اس کے علاوہ بریلی کے واقعہ میں شامل معصوم لوگوں کے لیے انصاف کو یقینی بنانے پر بھی بات چیت ہوئی۔

شمالی ہندوستان میں اسلامی اداروں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنا، جیسے مبارک پور جامعہ اشرفیہ، جنوبی ہندوستان میں اہم زیارت گاہوں کو جوڑنے والی ٹرین خدمات کا قیام، علی گڑھ یونیورسٹی ملاپورم سینٹر کی ترقی، اور مرکزی حکومت اور ملک بھر میں اقلیتی برادریوں کے درمیان قریبی روابط کی ضرورت۔میٹنگ میں سمستی کیرالہ سنی جمعیت علماءکے سکریٹری شیخ عبدالرحمن سکافی اور مرکز نالج سٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عبدالحکیم ازہری موجود تھے۔

شیخ ابو بکر کا تعارف

شیخ ابوبکر احمد عرف کانتھاپورم اے پی ابوبکر مسلیار ۔ جو گرینڈ مفتی آف انڈیا کے لقب سے جانے جاتے ہیں ۔ ایک نامور صوفی اسکالر ہیں جو انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی انتھک جدوجہد کی بدولت دنیا بھر میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ یمن میں بھارتی نرس نمیشا پریا کی سزائے موت مؤخر کروانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

وہ صوفیانہ تصورِ "خدمت” سے متاثر ہیں، جو انسانی خدمت کو روحانی زندگی کا مرکز قرار دیتا ہے اور جبکہ ہندوستانی روحانی روایات میں گہری جڑیں رکھتا ہے، شیخ ابوبکر احمد انسانی وجود کے گہرے پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں اور انہیں حقیقی تکمیل کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ہندوستان کی متنوع تہذیبی اور مذہبی روایات سے ان کی گہری وابستگی نے انہیں بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک پرجوش علمبردار بنایا، جو روحانی اقدار کو سماجی ذمہ داریوں کے ساتھ بخوبی ہم آہنگ کرتے ہیں۔

پیدائش اور تعلیم

سن 1931 میں جنوبی ہندوستان کے ضلع کوزیکوڈ میں پیدا ہونے والے شیخ ابوبکر کا بچپن روحانیت میں رچا بسا تھا۔ آزادی سے قبل کے ہندوستان میں ایک دیندار مسلم خاندان میں ان کی پرورش نے ان کے روحانی شعور کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں ان کے وژن اور انسانیت کے ہمہ جہتی فلاحی کاموں کی زندگی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ اسلامی روایتی علوم میں انہیں جو مہارت حاصل ہے، اس نے انہیں ہندوستان اور بیرونِ ملک کروڑوں پیروکاروں کا محبوب بنا دیا ہے۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک، ان کے معروف صبح کے خطبات جو جامعہ مرکز، کالی کٹ میں ہوتے ہیں، ہزاروں سامعین کو کھینچتے رہے اور خود ایک ادارے کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے خطبات نے دہائیوں پر محیط لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مختلف زبانوں میں تصنیفات بھی لاکھوں افراد کےلیے باعثِ ہدایت بنی ہیں۔

Related posts

قانون کی حکمرانی اور تخلیقی وفورکا سنگم، شیریں ظفر کی کتاب ’’عین رشید خان(مونوگراف )‘‘ کا اجرا

Hamari Duniya News

وزیراعظم کا قوم کیلئے صبح کا پیغام، خود انحصاری قوم کی تعمیر کی بنیاد

Hamari Duniya News

یوگی حکومت کے دعوے کی کھلی پول، نوئیڈا میں 492 صنعتی یونٹ ہوچکے ہیں بند

Hamari Duniya News