کیرانہ، 2 مارچ (عظمت اللّٰہ خان)۔
معروف صحافی و عالمِ دین مولانا بلال احمد بجرولوی اور ایم سالم انصاری کی بابرکت سفرِ عمرہ سے واپسی پر قصبہ کی علمی و صحافتی فضا خوشی و مسرت سے معطر ہوگئی۔ علماء، صحافیوں اور اربابِ مدارس نے دونوں زائرین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ گزشتہ شب شہر کے سابق چیئرمین حاجی راشد علی اور صحافی و شاعر ڈاکٹر عظمت اللہ خان نے مولانا بلال بجرولوی کے کاشانہ عبدالعز یز اور ایم سالم انصاری کے آبائی گاؤں کھیڑارننگلہ پہنچ کر خیرمقدم کیا، جہاں حرمِ مکی اور روضۂ رسول ﷺ کی حاضری سے متعلق روح پرور کیفیات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر مولانا بلال احمد بجرولوی نے اپنے مدلل خطاب میں سعودی عرب کی حکومت اور خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقدس مقامات پر صفائی، نظم و ضبط اور انتظامی حسن اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں عازمین کی سہولت اور سلامتی کے لیے جس مستعدی سے انتظامات کیے گئے ہیں وہ دنیا بھر کے لیے قابلِ تقلید نمونہ ہیں۔
مولانا نے بتایا کہ مقدس مقامات کی زیارت کے ساتھ انہیں وہاں کے علماء و ائمہ سے ملاقات کا بھی شرف حاصل ہوا، جن کی علمی بصیرت اور خلوص قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معتمرین اور حجاج کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ اور رہنمائی سمیت تمام سہولیات بہترین انداز میں فراہم کر رکھی ہیں جس سے پورے سفر میں مثالی نظم و ترتیب دیکھنے کو ملا۔
انہوں نے اپنے سفر کی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں مدینہ یونیورسٹی کے طلبہ سے ملاقات کا موقع بھی ملا جن میں ہندوستانی طلبہ بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم خصوصاً تحقیقی مراحل میں مصروف ہیں۔ مولانا نے لکھنؤ کے معروف صحافی سعید ہاشمی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے کیے گئے سفری انتظامات نہایت منظم اور قابلِ تحسین رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سفر روحانی فیوض کے ساتھ ساتھ امت کی علمی و تنظیمی قوت کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا ذریعہ بھی ثابت ہوا۔
