کیرانہ، 15 فروری (عظمت اللہ خان)۔ مبلغ دارالعلوم دیوبند مولانا یامین نے کہا کہ قرآنِ کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور جب تک اسے زندگی کے ہر شعبہ میں نافذ نہیں کیا جائے گا معاشرتی اصلاح ممکن نہیں۔ انہوں نے حفاظِ کرام کو نصیحت کی کہ وہ اپنے کردار اور طرزِ عمل سے قرآن کی عملی تصویر بنیں اور نوجوان نسل کو اس سے جوڑنے کا فریضہ انجام دیں۔
مولانا موصوف مظفر نگر کے مدرسہ حفظ الاسلام مکی نگر کے سالانہ جلسہ دستار بندی کو خطاب کر رہے تھے۔ مولانا نے حفاظِ کرام کی دستار بندی فرمائی اور انہیں دعاؤں سے نوازا۔
جلسہ کا آغاز قاری محمد اکرم کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ حافظ محمد ہارون نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو نورانیت سے معطر کر دیا۔
اس موقع پر مفتی غلام نبی نے اپنے خطاب میں تعلق مع اللہ کو کامیابی کی اساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انسان اخلاص کے ساتھ اپنے رب سے جڑا نہیں رہتا، اس کی زندگی میں حقیقی سکون پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طلبہ کو تقویٰ، عاجزی اور عمل کی پختگی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ مفتی راغب عمر نے مدارسِ اسلامیہ کی دینی و اصلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہی ادارے دین کی بقا اور نئی نسل کی صحیح رہنمائی کا مضبوط ذریعہ ہیں۔
اس مبارک موقع پر چار طلبہ نے حفظِ قرآنِ کریم کی تکمیل کی سعادت حاصل کی جن کی دستار بندی انتہائی مسرت اور دعاؤں کے ساتھ انجام دی گئی۔ والدین اور سرپرستوں کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی اور حاضرین نے طلبہ کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ ادارہ مولانا محمد گلزار قاسمی کی سرپرستی میں دینی و تعلیمی خدمات انجام دے رہا ہے اور جلسہ بھی انہی کی خصوصی نگرانی میں منعقد ہوا۔
اسٹیج پر علاقہ کے جید علماء و ائمہ کرام بھی موجود رہے جن میں مفتی ظہیر احمد قاسمی، مولانا صادق، مولانا شوکت، مولانا زین الدین، مولانا ارشد، قاری انصار حسینی، قاری افتخار حسینی، قاری غفران، مولانا محمد عیسیٰ، قاری محمد عامر رحیمی، قاری محمد فرید، قاری جمشید اور قاری انس سمیت دیگر معزز شخصیات شریک رہیں۔
اختتام پر مدرسہ کی ترقی، طلبہ کی مزید کامیابیوں اور امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔ آخر میں بانی و مہتمم قاری سید محمد اعظم نے تمام مہمانان و شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ روحانی اجتماع آئندہ بھی اہلِ علاقہ کے لیے دینی بیداری اور قرآن سے وابستگی کا ذریعہ بنتا رہے گا۔
