0.5 C
New York
فروری 3, 2026
National قومی خبریںTop News

جمعیۃ علماء ہند کو ایک اور بڑی قانونی کامیابی، اکشردھام مندرحملہ میں گرفتار تین دوسرے لوگ بھی باعزت بری

جمعیۃ علماء ہند

بے گناہون کو انصاف تو مل گیا مگر متاثرین کی زندگیاں برباد کرنے والوں کو کیفرکردارتک پہنچاے بغیر انصاف ادھورا ہے:مولانا ارشدمدنی
خاطی افسران کے خلاف جمعیۃ علماء ہند عدالت میں مقدمہ لڑ رہی ہے
نئی دہلی: 24 جنوری 2026
جمعیۃ علماء  ہند کی قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں اکشردھام مندرحملہ کے معاملہ میں وہ تین افرادبھی باعزت بری ہوگئے جن کوبعدمیں گرفتارکیاگیاتھا، ان کے نام عبدالرشید سلیمان اجمیری، محمد فاروق محمد حنیف شیخ اورمحمد یاسین عرف یاسین بٹ ہے۔ احمدآبادکی خصوصی پوٹاعدالت میں یہ مقدمہ چلا اورسماعت کے بعدپوٹاعدالت کے خصوصی جج ہیمانگ آر راؤل نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے انہیں باعزت رہاکردیاکہ اس سے پہلے سپریم کورٹ بھی سزایافتہ ملزمین کو ناکافافی ثبوت کے بنیاد پر بے قصورقراردیتے ہوئے رہاکرچکی ہے، فاضل جج نے یہ بھی کہا کہ اس حقیقت کو مدنظررکھتے ہوئے موجودہ تینوں ملزمین کے خلاف لگائے گئے الزام کے ضمن میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تسلیم کئے گئے شواہد کے علاوہ ریکارڈ پر کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی، اس لئے ان تینوں ملزمین کو بھی رہاکیاجاتاہے، ان تین لوگوں میں سے دوعبدالرشید سلیمان اجمیری اورمحمدفاروق محمد حنیف شیخ احمدآبادکے رہنے والے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اکشردھام مندرپر حملہ کاواقعہ جب پیش آیاتویہ دونوں سعودی عرب کے شہر ریاض میں بسلسلہ روزگارمقیم تھے، مگر انہیں بھی ملزم قراردیکر فراراعلان کردیاگیاتھا، چنانچہ 2019میں جب یہ لوگ سعودی عرب سے لوٹے توکرائم برانچ نے انہیں گرفتارکرکے جیل بھیج دیاتھا، ان کے دیگر دوبھائیوں آدم سلیمان اجمیری اورسلیم حنیف شیخ کوبھی اس دہشت گرانہ معاملہ میں گرفتارکیا گیا تھاجنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے باعزت بری کردیاتھا، انہی کی درخواست پر جمعیۃ علماء  ہندنے اس معاملہ میں بھی قانونی امدادفراہم کی۔
جمعیۃ علماء  ہندکے صدرمولانا ارشدمدنی نے پوٹاعدالت کے حالیہ فیصلہ کا استقبال کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قراردیا اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی قابل اطمینان ہے کہ اس معاملہ میں پوٹاعدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بطورنظیراپنے سامنے رکھااوراس طرح بے گناہوں کی رہائی ممکن ہوپائی، انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بے گناہ تھے کیونکہ اکشردھام مندرپر جب حملہ ہواتویہ لوگ وہاں موجودنہیں تھے مگر اس کے باوجود انہیں ملزم بنادیا گیاانہوں نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہارکیا کہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی ان لوگوں کو انصاف کے حصول میں چھ سال لگ گئے، اس سے ہمارے قانونی نظام کی خامیاں اجاگرہوجاتی ہے، افسوسناک پہلویہ ہے کہ آج کے حالات میں ایک مخصوص فرقہ کے لئے انصاف کا حصول ناممکن نہیں تومحال ضرورہے، اوراس کوشش میں بے گناہ افرادکی زندگیوں کے بیش قیمتی دن جیل کی سیاہ کوٹھری کی نذرہوجاتے ہیں، مگر اس کے لئے کسی کی جواب دہی طے نہیں کی جاتی اس لئے جولوگ ایساکرتے ہیں ان کے حوصلہ مزید بلند ہوجاتے ہیں۔
مولانا مدنی نے اخیر میں کہا کہ ہماری نظر میں یہ انصاف اس وقت تک ادھورا ہے جب تک جوابدہی طے نہیں کی جائے گی اور بے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کوئی سزا نہیں دی جائے گی،ا س افسوسناک سلسلے کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ قانون کی آڑمیں اسی طرح بے گناہوں کی زندگیوں کھلواڑ ہوتا رہے گا، بے قصور مسلمانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے افسران کے خلاف اور ان کے چہروں سے نقاب اٹھانے کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں رہا ہونے والے ملزمین کی جانب سے ہرجانہ اور خاطی افسران کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے بھی اپیل دائر کی گئی تھی جس پر مختلف مراحل میں بحث ہوئی اور حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والے وکیل نے یہ کہا کہ اس طرح تو ہر رہا ہونے والا ہرجانہ اور پولس پر کاروائی کا مطالبہ کرے گا جس سے پولس کا مورل ڈاؤن ہوگا،اپیل کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر جمعیۃ علماء ہندکے سینئر ایڈوکیٹ  کے۔ٹی۔ایس۔تلسی نے بحث کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ قانون ہی میں ہرجانہ اور خاطی افسران کی سرزنش کی بات کہی گئی ہے. بہر حال سپریم کورٹ کے آرڈر پر ہرجانہ کا معاملہ نچلی عدالت میں چل رہا ہے، اس فیصلہ سے یہ امید بڑھی ہے۔ انشاء اللہ ہرجانہ کا فیصلہ  بے گناہ مظلومین کے حق میں جلد آے گا۔
واضح رہے کہ سن 2002 میں گجرات کے گاندھی نگر میں واقع اکشر دھام مندر پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں مندر کے زائرین اور پولس اہلکاروں کی اموات ہوئی تھی۔ حملے قریب ایک سال بعد تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ کے DG بنجارا و دیگران افسران نے اچانک 30 اگست 2003 کو مفتی عبد القیوم،آدم سلیمان اجمیری،سلیم حنیف شیخ، مولانا عبد اللہ، چاند خان اور الطاف حسین ملک کو گرفتار کرکے اس معاملہ کے حل کر لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ 2007میں پوٹاعدالت نے اکشردھام مندرپر حملہ کے الزام میں گرفتارکئے گئے لوگوں میں سے تین مفتی عبد القیوم، آدم سلیمان اجمیری اور چاند خان کو پھانسی کی سزادی تھی جبکہ سلیم حنیف شیخ کو عمرقید، مولانا عبد اللہ میاں کو دس برس اورالطاف ملک کو پانچ برس قیدکی سزاسنائی تھی، سن 2010 میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی پوٹاعدالت کے فیصلہ کو برقراررکھاتھا،  صدرجمعیۃ علماء  ہند مولاناارشدمدنی کی ہدایت پرجمعیۃ علماء  ہندکی قانونی امدادکمیٹی نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اورسپریم کورٹ نے ناکافی ثبوت کی بنیادپر سن 2014 میں تمام ملزمین کو باعزت بری کرنے کے ساتھ ساتھ گجرات پولس اورتفتیشی ایجنسیوں کی اس بات کے لئے سخت شرزنش کی تھی کہ انہوں نے درست طریقہ سے معاملہ کی تفتیش نہیں کی اوراس میں بے گناہوں کو پھانس کر اپنی فرض سناشی ظاہر کردی تھی، سپریم کورٹ سے باعزت رہائی کے بعد پوٹا کورٹ سے پھانسی یافتہ ملزم مفتی عبد القیوم نے اپنی بے گناہی کے دستاویز کے طور ایک کتاب ” 11 سال سلاخوں کے پیچھے” لکھی ہے جس کا رسم اجراء صدر محترم  کے ہاتھوں ہوا تھا۔

Related posts

اویمکتیشورانند کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے اکھلیش یادو

Hamari Duniya News

ٹی 20 ورلڈ کپ :شبھمن گل کا چھلکا درد،سلیکٹروں کے بارے میں کہہ دی بڑی بات

Hamari Duniya News

ایپسٹین فائلز میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی والدہ میرا نائر کا بھی آیا نام

Hamari Duniya News