4 C
New York
فروری 16, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

جمعیۃ السنۃ التعلیمیۃ والخیریۃ، لکھنؤ کے زیر اہتمام کلیۃ الصدیقۃ الإسلامیۃ للبنات کی فارغات کو ردائے فضیلت اور معہد الفرقان لتحفیظ القرآن کے حفاظ کی دستار بندی کی باوقار تقریب اختتام پذیر

لکھنؤ، 16 فروری: بتاریخ 14 فروری بروز سنیچر 2026ء جمعیۃ السنۃ التعلیمیۃ والخیریۃ، لکھنؤ کے زیر اہتمام کلیۃ الصدیقۃ الإسلامیۃ للبنات کی فارغات کی ردائے فضیلت، تقسیمِ اسناد اور شعبۂ حفظ معہد الفرقان لتحفیظ القرآن کے حفاظ کی دستار بندی کے لیے جمعیۃ السنۃ کے وسیع صحن میں ایک نہایت باوقار اور روح پرور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کی سرپرستی جماعت کے مخلص و بزرگ عالمِ دین جناب حافظ عتیق الرحمن طیبی صاحب نے فرمائی، جب کہ صدارت صوبائی جمعیت اہلِ حدیث مشرقی یوپی کے نائب امیر اور جامعہ اسلامیہ خیرالعلوم، ڈومریا گنج کے ریکٹر جناب مولانا محمد ابراہیم مدنی صاحب نے کی۔ نظامت کے فرائض جمعیۃ السنۃ التعلیمیۃ والخیریۃ کے بانی اور صوبائی جمعیت اہلِ حدیث مشرقی یوپی کے ناظمِ اعلیٰ جناب مولانا شہاب الدین مدنی صاحب نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
پروگرام کا آغازجناب حافظ سلطان احمد فرقانی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ ردائے فضیلت، دستار بندی اور تقسیمِ اسناد سے قبل عوام و خواص کی علمی و ایمانی رغبت کے لیے ممتاز اہلِ علم و خطباء نے بصیرت افروز خطابات پیش کیے۔

program
سب سے پہلے مرکز امام احمد بن حنبل کے ڈائریکٹر جناب مولانا نورالدین مدنی صاحب نے توحید کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئے خواتین کو ان کی دینی و معاشرتی ذمہ داریاں یاد دلائیں۔
 بعد ازاں شعلہ و شیریں بیاں نوجوان خطیب جناب مولانا فرید الدین فیضی صاحب نے ’’چار اعمال اور ایک انعام‘‘ کے عنوان سے کتاب و سنت کی روشنی میں نہایت مؤثر اور دل نشیں خطاب فرمایا۔
 معہد الفرقان لتحفیظ القرآن، لکھنؤ کے قابل قدر اور فرض شناس استاد جناب حافظ ظہیر احمد حجازی صاحب نے اصلاحِ معاشرہ کے موضوع پر مترنم اور درد بھری آواز میں خطاب کیا۔
 مہمانِ خصوصی، ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر کے فعال و متحرک ناظم جناب مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی صاحب نے اس عظیم الشان اجلاس کے مخلص منتظمین، کنوینر اور معاونین کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کی۔ بالخصوص فارغاتِ کلیہ اور حفاظِ کرام کو قیمتی نصائح سے نوازا اور ان کی فکری و عملی رہنمائی فرمائی۔
 مناظرِ اسلام، متعدد اہم کتب کے مؤلف اور اہلِ علم کے قدردان جناب مولانا شہاب الدین مدنی صاحب نے عصرِ حاضر کے فتنوں، متعالمین اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر تنبیہ فرمائی اور کتاب و سنت کو زندگی کے ہر شعبے میں نافذ کرنے کی پرزور نصیحت کی۔
 میرِ مجلس جناب مولانا محمد ابراہیم مدنی صاحب نے عظمتِ قرآن کے موضوع پر نہایت بلیغ اور رقت آمیز صدارتی خطاب فرمایا جس سے سامعین کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ صدارتی خطاب کے بعد امسال کی آٹھ خوش نصیب فارغات و عندلیبانِ کلیہ کو ردائے فضیلت، اسناد اور قیمتی انعامات سے نوازا گیا:۔
تمنا بنت اخلاق – فیروز آباد، رابعہ بنت محمد متین – بارہ بنکی، رمشاء بنت شمس الاسلام – بریلی
،زہراء بنت محمد اسرار الحق – بلرام پور، سمیہ بنت معصوم علی – بارہ بنکی، صفراء بنت ضیاء الاسلام – بریلی، عائشہ بنت عبدالرحیم – بریلی، ناظرین بنت محمد طاہر – بارہ بنکی
اس کے بعد پانچ سعادت مند حفاظ کے سروں پر دستارِ فضیلت سجائی گئی اور انہیں گراں قدر کتب، نقد رقم اور عمدہ لباس سے نوازا گیا:۔ عبدالصمد بن محمد یاسین – لکھنؤ، محمد حمزہ بن محمد ریاض – لکھنؤ، محمد شہزان بن محمد دلشاد – لکھنؤ، محمد فرحان بن نیاز احمد – سیتاپور 
مشعل ظہیر بن حافظ ظہیر احمد – سدھارتھ نگر
حافظ ظہیر احمد حجازی صاحب نے شعبۂ تحفیظ کی ترقی کے لیے غیر معمولی محنت کی ہے۔دس سال کی عمرکے ایک عزیز طالب علم مشعل ظہیرنے محض سات ماہ کی قلیل مدت میں قرآن کریم مکمل حفظ کر کے اپنے والدین، اساتذہ اور ادارے کا نام روشن کیا۔
جناب مولانا وقار احمد سلفی صاحب نے بھی حافظ ظہیراحمدحجازی کی بہترین کارکردگی پران کی تکریم کرتے ہوئے پانچ ہزار روپے بطورِ ہدیہ پیش کیے۔
بعد ازاں منتظمینِ اجلاس کی جانب سے علمائے کرام کی ہمہ جہت خدمات کے اعتراف میں خوب صورت مومنٹو پیش کیے گئے۔ جن حضرات کو مومنٹو سے نوازا گیا ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:۔ حافظ عتیق الرحمن طیبی، حافظ کلیم اللہ سلفی، مولانا شہاب الدین مدنی، مولانا محمد ابراہیم، مدنی مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی، مولانا نورالدین مدنی، حافظ ظہیر احمد حجازی، مولانا وقار، احمد سلفی، مولانا سراج الدین سراجی۔
آخر میں سرپرستِ اجلاس حافظ عتیق الرحمن طیبی صاحب کے دل سوز دعائیہ کلمات پر مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔ الحمد للہ! یہ پروگرام اپنے مقصد کے اعتبار سے نہایت کامیاب رہا۔ مرد و خواتین کی کثیر تعداد کی موجودگی کے باوجود نظم و ضبط اور سکون کا یہ عالم تھا کہ گویا مجلس میں غیر معمولی خاموشی طاری تھی۔ شہر کی دینی و سماجی شخصیات اور گارجین حضرات نے بھرپور شرکت کی اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔
اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کے بعد اس کامیابی میں کنوینرِ اجلاس جناب مولانا تقی الدین حجازی صاحب اور ان کے معاونین جناب مولانا بدر الدجی عابدی،مولانا وحیدالدین سلفی اورماسٹر رضوان اللہ (ایم اے) کا کردار نہایت اہم رہا۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلص خدام کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں اجرِ عظیم سے نوازے۔ آمین۔ آخر میں مولانا شہاب الدین مدنی نے اپنے تمام مہمانانِ گرامی، اساتذۂ کرام اور معاونین کا شکریہ ادا کیا اور دعا کے ساتھ تقریب کا اختتام کیا۔ یہ بابرکت محفل شرکاء کے دلوں میں خوشگوار یادیں اور ایک نیا عزم چھوڑ گئی۔

Related posts

مدرسہ ام سلمہ للبنات کا دو روزہ عظیم الشان اجلاس عام اختتام پذیر

Hamari Duniya News

سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کا ’’خوشیو ں کے  لباس‘‘ پروجیکٹ لانچ

Hamari Duniya News

اردو ہندوستان کی زندہ زبان ہے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے: ڈاکٹر شمس اقبال

Hamari Duniya News