تہران ،22جنوری ۔ ایران میں گزشتہ دنوں بڑے پیمانے پر جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میڈیا میں ہلاکتوں کی اطلاعات آئیں۔لیکن حقیقی معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔اب ایران کی حکومت نے اس پر بیان جاری کیا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد کا انکشاف کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی لیگل میڈیسن آرگنائزیشن کی جانب سے گزشتہ شام جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ایران میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 117 افراد جاں بحق ہوئے۔21 جنوری کو جاری کی گئی رپورٹ میں ایرنی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے 469 سرکاری عمارتوں پر حملے کیے گئے اور انھیں آگ لگا کر مکمل تباہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ملک کے آٹھ صوبوں میں 702 بینک برانچز کو منہدم یا نذرِ آتش کیا گیا جبکہ 419 سپر مارکیٹس کو لوٹا گیا اور نذر آتش کیا گیا۔
ایجنسی کے مطابق بدامنی کے دوران پولیس کی 740 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ 305 عوامی ٹرانسپورٹ بشمول بسوں اور ایمبولینسوں کو بھی شدید نوعیت کا نقصان پہنچایا گیا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ملک میں ہونے والے ان حالیہ مظاہروں میں عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان واقعات کے دوران 484 مساجد کو نقصان پہنچا یا انھیں آگ لگا دی گئی۔فاونڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’کل 3117‘ ہلاکتوں میں سے 2427 افراد جن میں عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار دونوں شامل ہیں، ’دہشت گردانہ واقعات‘ کے نتیجے میں ’شہید‘ ہوئے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ افراد پرتشدد عناصر کی جانب سے داعش طرز کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں خراب معاشی حالات کے خلاف ہونے والے شدید احتجاج اور سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔یاد رہے کہ ایران میں بدامنی کا آغاز 28 دسمبر کو قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی حالت کے باعث ہوا تھا۔ یہ صورتحال جلد ہی ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہو گئی جو آٹھ اور نو جنوری کو خاص طور پر شدت اختیار کر گئے۔
