قرآن علم،اخلاق اور انسانی رہ نمائی کا آفاقی سرچشمہ ہے؍پروفیسرعبدالمجید حکیم الٰہی
قرآن انسانی تحقیق کومقصد،سمت اور معنویت عطا کرتا ہے ؍پروفیسر اقتدار محمد خان
نئی دہلی،30؍جنوری : ‘‘ قرآن کریم طبیعیات، کیمیا، فلکیات یا حیاتیات کی درسی کتاب نہیں، بلکہ علم، اخلاق اور انسانی رہ نمائی کی آفاقی سرچشمہ ہے، جو سائنسی جستجو کو صحیح رخ اور انسان کو بلندمقصدعطا کرتا ہے۔ اس میں وہ اصول اور اقدار موجود ہیں جو علمی جستجو کو اخلاقی ذمہ داری سے جوڑتے اور تحقیق کو انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ بناتے ہیں۔’’ان خیالات کا اظہار آیت اللہ ،پروفیسرعبدالمجید حکیم الٰہی،نمائندۂ رہبر اعلیٰ،ایران نے شعبہ اسلامک اسٹڈیز ،ولایت فاؤنڈیشن اور شہید بہشتی یونی ورسٹی تہران ،ایران کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہونے والے تیسرے سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان ‘‘قرآن اور سائنس’’ کی اختتامی تقریب میں دوران صدارت کیا ۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد قرآن اور سائنس کے درمیان بامعنی ربط کی تلاش، نئے فکری زاویوں کی دریافت اور ایسے علمی مباحث کو فروغ دینا ہے جو نئی نسل میں تخلیقی فکر بیدار کریں اورمستقبل کے محققین اور سائنس دانوں کے وجود کا سبب بن سکیں۔پروفیسر اقتدار محمد خان،ڈائریکٹر سیمینار اور ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز نے فرمایا کہ قرآن ایک ایسا اخلاقی و فکری منشور ہے جو انسانی تحقیق کو مقصد، سمت اور معنویت عطا کرتا ہے۔ان کے مطابق دین کے نام پر سائنس کی نفی کرنابھی غلط ہے اور سائنسی نظریات کے تابع بنا کر وحی کی تاویل کرنا بھی درست نہیں ہے۔ صحیح راستہ توازن،مکالمہ اورایمان و عقل کی ہم آہنگی سے نکلتا ہے۔مہمان خصوصی ڈاکٹر ریحانہ سادات رئیسی،دخترشہید ابراہیم رئیسی(سابق صدرایران) نے کہا کہ زبان و نسل کے اختلاف کے باوجود امت کی وحدت ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے جس کی بنیاد توحید اور قرآن کریم کی مشترکہ تعلیمات پر قائم ہے۔
مہمان اعزازی،پروفیسر محمد مہدی اسماعیلی،سابق وزیر ،ایران نے کہا کہ قرآنی تصورِ حیات انسان کو مادیت اور وقتی خواہشات سے آزاد کر کے عدل، روحانیت اور اجتماعی ذمہ داری کی راہ دکھاتا ہے اور اس سے انحراف دراصل حقیقی محرومی ہے۔ مہمان اعزازی پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل اکبری،شہید بہشتی میڈیکل سائنس یونی ورسٹی، تہران نے زوردیا کہ قرآن شناسی محض الفاظ کی پہچان نہیں، بلکہ اس کے پیغام کو سمجھنے اور زندگی میں برتنے کا نام ہے۔پروفیسر مشیر حسین صدیقی،سابق صدرشعبہ عربی ،لکھنؤ یونی ورسٹی نے اپنے تاثراتی کلمات میں فرمایا کہ قرآنِ کریم کا بنیادی پیغام تدبر اور غور و فکر ہے۔وہ انسان کو متعدد آیات کے ذریعے سوچنے، سمجھنے اور کائنات کے حقائق پر نظر عمیق سے مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔پروفیسرمحمد فہیم اختر ندوی،سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز،مولانا آزادنیشنل اردو یونی ورسٹی حیدرآباد نے اپنے تاثراتی کلمات میں حدیث نبوی کے حوالے سے فرمایا کہ بڑے بڑے فتنوں اور فکری انتشار سے نجات کا حقیقی راستہ قرآنِ کریم کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔ڈاکٹر محمد حسین ضیائی نیا، نائب نمائندہ ہبر اعلیٰ،ہندوستان نے کہا کہ مسلم معاشروں کی فکری تجدید اسی وقت ممکن ہے جب جدید سائنس کو قرآنی تصورِ علم، عقل اور اخلاقی ذمہ داری کی روشنی میں ازسرِنو اختیار کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سیمینار میں تیرہ سے زائد علمی نشستیں منعقد کی گئیں اور ان میں چالیس سے زیادہ مقالہ نگاروں نے متنوع موضوعات پر اپنے مقالے پیش کیے۔ان نشستوں کی نظامت ڈاکٹر خورشید آفاق،ڈاکٹرمحمد تحسین زماں،ڈاکٹر ابرار الحق،ڈاکٹر انیس الرحمن،ڈاکٹر محمد اسامہ،ڈاکٹر محمد مسیح اللہ،ڈاکٹر ندیم سحرعنبرین، ڈاکٹر محمد علی،ڈاکٹر اویس منظور ڈار،محترمہ ماریہ زہرہ نے انجام دی۔ تقریب کا آغاز شہامت علی خان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔کانفرنس کی جامع رپورٹ ڈاکٹر حیدر رضا ضابط نے پیش کی،جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ اسلامک اسٹڈیزکے سینئر استاد جناب جنید حارث نے انجام دیے۔کلمات تشکر سیمینار کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد ارشد نے ادا کیے۔تصویر کشی شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے طالب علم محمد کیفی نے کی ۔اس کانفرنس میں ایران،عراق،کویت ،دبئی، سوڈان، انڈونیشیاوغیرہ سے متعدد اہل علم و دانش پروفیسر محمد سلیمان صدیقی،پروفیسر محمد اسحق، پروفیسر عبیداللہ فہد،پروفیسر سعود عالم قاسمی،پروفیسر محمد حبیب، پروفیسر ہمایوں اختر نظامی،پروفیسر علاؤالدین خان ،پروفیسر ضیاء الدین ملک،پروفیسر سیدہ ثمین فاطمہ،ڈاکٹر صفیہ عامر،ڈاکٹر شکیل احمد،ڈاکٹر سید عبدالرشید اورڈاکٹر عابدہ کوثروغیرہ نے شرکت کی۔ سیمینار کی منصوبہ بندی سے اس کے کام یاب انعقادتک کے سفر میں شعبہ اسلامک اسٹڈیزکے جملہ اساتذہ اورمنتظمہ کمیٹی کی مسلسل محنت شامل رہی، بالخصوص ڈاکٹر محمد ارشد، ڈاکٹر محمد خالد خان،ڈاکٹر محمد عمرفاروق،ڈاکٹرجاوید اختر اورطالب علم محمد شہنواز کی کاوشیں بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔
