کیرانہ، 7 مارچ(عظمت اللّٰہ خان )
کاندھلہ بس اسٹینڈ کے قریب واقع قدیم گورِ غریباں (نوری) قبرستان میں ایک صدیوں پرانی قبر (مزار) کی بے حرمتی کا معاملہ سامنے آنے سے مقامی باشندوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض شرپسند عناصر نے قبر پر ہولی کے رنگ ڈال کر اور مختلف مقامات پر ہندو مذہب کے نشانات بنا کر شہر کی فضا کو خراب کرنے کی ناپاک کوشش کی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی اس نوعیت کی ناپاک حرکتیں کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبرستان کے جنوبی حصے میں اکثریتی مذہب کے چند مکانات واقع ہیں اور ماضی میں وہاں کے بعض افراد قبرستان کے احاطے میں اپنے مویشی باندھنے اور ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کرنے لگے تھے۔ مخالفت اور اعتراض کے بعد انہیں اپنے کھیتی کے آلات وہاں سے ہٹانے پڑے تھے۔
لوگوں کے مطابق اس دوران قبرستان کی چہار دیواری کو کئی مقامات سے نقصان پہنچا کر منہدم بھی کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں قبرستان کمیٹی نے ٹوٹی ہوئی دیوار کی مرمت کرائی اور راستے میں اس طرح کے کھمبے نصب کیے گئے تاکہ کوئی گاڑی اندر داخل نہ ہو سکے۔
اس کے باوجود موجودہ حالات میں بھی بعض افراد قبرستان کے احاطے کو نشہ آور انجکشن استعمال کرنے اور کھیل کود کا میدان بنانے لگے ہیں، جس کے باعث قبروں کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے۔
شہر کی امن پسند عوام نے پولیس و انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور قبروں کی بے حرمتی کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ شہر کی فضا کو مسموم ہونے سے بچایا جا سکے اور مذہبی مقامات کا تقدس برقرار رہے۔
