فروری 12, 2026
Health صحتRegional News علاقائی خبریںTop News

کالا پیلیا کا بڑھتا قہر، آلودہ پانی بن گیا سنگین خطرہ

کالا پیلیا

عوام نے اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاندھلہ روڈ پر قائم میٹ پلانٹ کو فوری طور پر بند کیا جائے

کیرانہ، 12 فروری (عظمت اللہ خان)۔ قصبہ کیرانہ اور اس کے نواحی علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی یعنی کالا پیلیا کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ آلودہ پانی اور دیگر اسباب کے سبب یہ موذی مرض تیزی کے ساتھ اپنے پیر پھیلا رہا ہے، جس سے عوام میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق کیرانہ کے کاندھلہ روڈ پر واقع ایک میٹ پلانٹ سے نکلنے والا غلاظت آمیز پانی کنوؤں کے ذریعے زمین کی تہہ میں اتارا جا رہا ہے، جس میں جانوروں کا خون اور دیگر آلائشیں شامل ہوتی ہیں۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ یہ آلودہ پانی زیر زمین سطح تک پہنچ کر پینے کے پانی میں شامل ہو رہا ہے اور مونسپل بورڈ کی جانب سے نصب سمبر سیل کے ذریعے یہی پانی گھروں تک سپلائی کیا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں پانی میں آرسینک کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں افراد ایچ سی وی کالا پیلیا جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ محلہ دربار خود ریتا والا میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایک درجن سے زائد افراد اس مرض کے سبب لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

فی الوقت ضلع اسپتال میں ایک ہزار سے زائد مریضوں کا علاج جاری ہے، جبکہ ہر ماہ نئے مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے۔ محکمۂ صحت کے مطابق دیہی علاقوں میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ضلع اسپتال میں اب تک سینکڑوں مریض رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 300 مریضوں کا باقاعدہ علاج جاری ہے، جبکہ ہر ماہ 25 سے 30 نئے مریض اس مرض میں مبتلا پائے جا رہے ہیں۔

سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی عموماً آلودہ پانی پینے، متاثرہ خون کی منتقلی اور غیر محفوظ سرنج کے استعمال سے پھیلتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے صاف پانی کا استعمال، نئی سرنج کا استعمال اور طبی احتیاطی اصولوں کی پابندی ناگزیر ہے۔

ضلع اسپتال میں اس مرض کی جانچ اور علاج کی سہولت دستیاب ہے، اور ہر جمعہ کو مریضوں کے خون کے نمونے لے کر وائرل لوڈ کی جانچ کی جاتی ہے، جس کی رپورٹ کی بنیاد پر علاج شروع کیا جاتا ہے۔

ادھر کرشنا ندی کے کنارے آباد دیہات میں بھی کالا پیلیا کے مریضوں کی تعداد زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ندی میں فیکٹریوں کا آلودہ پانی چھوڑا جا رہا ہے، جس سے بیماری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دیہاتیوں نے انتظامیہ سے صاف پینے کے پانی کی فراہمی اور ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قصبہ کی عوام نے اتر پردیش حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کاندھلہ روڈ پر قائم میٹ پلانٹ کو فوری طور پر شہر سے باہر کسی مناسب مقام پر منتقل کیا جائے اور موجودہ پلانٹ کو بند کیا جائے، تاکہ شہریوں کو اس جان لیوا آلودگی سے نجات مل سکے۔ محکمۂ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پیلیا کی علامات ظاہر ہوتے ہی فوراً جانچ کرائیں اور علاج میں کسی قسم کی لاپروائی نہ برتیں۔

Related posts

پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے پر ایران کا یورپ کو چیلنج ،پاسداران انقلاب کی وردی پہن کر ایرانی اراکین پارلیمنٹ پہنچے

Hamari Duniya News

دی اسکالر اسکول میں سالانہ تعلیمی مظاہرہ منعقد، مہمانِ خصوصی ڈاکٹر خواجہ ایم شاہد نے طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کی ستائش کی

Hamari Duniya News

سردی کے موسم میں ضرور آزمائیں یہ ایرانی چائے  

Hamari Duniya News