
رضا ابرار ندوی
استاد قوم کا معمار اور انسانیت کا محسن ہوتا ہے۔ وہ محض کتابوں کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ دلوں کو روشن کرتا ہے، ذہنوں کو جِلا بخشتا ہے اور شخصیت کو سنوارتا ہے۔ ایک اچھا استاد شاگرد کے باطن میں پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں نکھارتا ہے۔ وہ علم کے ساتھ ساتھ اخلاق، تہذیب، برداشت اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ گویا استاد وہ باغبان ہے جو ننھے پودوں کی حفاظت کرتا ہے، انہیں پانی دیتا ہے اور وقت آنے پر وہی پودے تناور درخت بن کر معاشرے کو سایہ فراہم کرتے ہیں۔
استاد کی حیثیت معاشرے میں نہایت بلند ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کو بھی معلم کہا گیا، کیونکہ انہوں نے انسانیت کو ہدایت اور سچائی کا راستہ دکھایا۔ اسی نسبت سے استاد کا منصب مقدس اور قابلِ احترام ہے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو صرف امتحان میں کامیابی کے لیے تیار نہیں کرتا بلکہ اسے عملی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ وہ اسے سچ بولنے، انصاف کرنے اور حق کا ساتھ دینے کی تعلیم دیتا ہے۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ دنیا کی عظیم شخصیات اپنے اساتذہ کی محنت اور تربیت کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ برصغیر کے عظیم مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے اپنے استاد مولانا میر حسن کے علمی فیض کو اپنی فکری بلندیوں کی بنیاد قرار دیا۔ اسی طرح دنیا کے کئی نامور سائنس دان، مفکرین اور قائدین نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے اساتذہ کے سر باندھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایک مخلص استاد فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
استاد شمع کی مانند ہوتا ہے۔ وہ خود جلتا ہے، اپنی راحتوں کو قربان کرتا ہے، راتوں کی نیند حرام کرتا ہے تاکہ اس کے شاگرد علم کی روشنی سے منور ہو سکیں۔ بسا اوقات شاگرد استاد کی محنت کو فوری طور پر محسوس نہیں کرتا، لیکن جب وہ زندگی کے میدان میں قدم رکھتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر جو اعتماد، شعور اور حوصلہ ہے، وہ دراصل استاد کی تربیت کا ثمر ہے۔
استاد کی شفقت والدین کی محبت سے کم نہیں ہوتی۔ وہ شاگرد کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے اور اس کی ناکامی پر فکرمند۔ وہ ڈانٹتا بھی ہے تو اصلاح کے لیے، اور سراہتا بھی ہے تو حوصلہ افزائی کے لیے۔ اس کی نصیحتیں وقتی طور پر سخت محسوس ہو سکتی ہیں، مگر درحقیقت وہی نصیحتیں زندگی کے کٹھن راستوں میں رہنمائی کا چراغ بن جاتی ہیں۔
میری محترم استادہ ڈاکٹر پروین شجاعت صاحبہ انہی عظیم اساتذہ میں شمار ہوتی ہیں جو اپنے شاگردوں کی فکری اور اخلاقی تربیت میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی فرمائی، میری تحریروں کی اصلاح کی، میری کمزوریوں کی نشاندہی کی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ جب کبھی میں کسی الجھن کا شکار ہوا تو ان کی رہنمائی نے راستہ آسان کیا۔ ان کا خلوص، ان کی شفقت اور ان کا علمی وقار میرے لیے مشعلِ راہ ہے۔
ایک شاگرد کی کامیابی دراصل اس کے استاد کی کامیابی ہوتی ہے۔ جب شاگرد کسی مقام پر پہنچتا ہے تو اس کے پیچھے استاد کی دعائیں اور محنت شامل ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ اپنے اساتذہ کا ادب کریں، ان کے سامنے عاجزی اختیار کریں، ان کی نصیحتوں کو حرزِ جاں بنائیں اور ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھیں۔ استاد کا احترام دراصل علم کا احترام ہے، اور علم کا احترام ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
آج کے دور میں جب مادّیت اور خود غرضی عام ہو چکی ہے، استاد کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ وہ نئی نسل کو اخلاقی گراوٹ سے بچا سکتا ہے، انہیں صحیح سمت دے سکتا ہے اور معاشرے کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر اساتذہ اپنی ذمہ داری کو دیانت داری سے ادا کریں اور شاگرد ان کا ادب و احترام کریں تو ایک مہذب، باشعور اور باکردار معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کو صحت، عزت اور طویل عمر عطا فرمائے۔ ہمیں ان کا ادب کرنے، ان کی خدمت کرنے اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
