6.4 C
New York
فروری 21, 2026
Health صحتNational قومی خبریںTop News

رمضان میں شوگر کے مریضوں کے لیے صحت کی مکمل گائیڈ

شوگر کے مریضوں

جیسے ہی ماہِ رمضان کا آغاز ہوتا ہے، بہت سے ذیابیطس کے مریض روزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزہ رکھنا ممکن ہے، لیکن یہ واضح شرائط کے تحت اور مکمل طبی نگرانی کے ساتھ ہونا چاہیے، تاکہ شوگر کے کم یا زیادہ ہونے اور دیگر سنگین پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔جدید صحت کے رہنما اصولوں کے مطابق رمضان میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے درج ذیل اہم طبی ہدایات ہیں:
اول: روزہ رکھنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ
سب سے اہم قدم یہ ہے کہ ماہِ رمضان شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے معائنہ کروایا جائے تاکہ صحت کی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔ بعض ذیابیطس کے مریض روزہ نہیں رکھ سکتے، خاص طور پر:
غیر مستحکم ٹائپ 1 شوگر کے مریض ،بار بار شوگر کم ہونے کے حملے والے،حاملہ خواتین جو شوگر کی مریض ہوں،وہ لوگ جنہیں گردے یا دل کی پیچیدگیاں ہوں،بوڑھے افراد جنہیں کئی دائمی بیماریاں ہوں۔ڈاکٹر ضرورت کے مطابق انسولین یا شوگر کی ادویات کی خوراک میں تبدیلی یا ان کا وقت روزے کے مطابق بدلنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔
دوسرا: شوگر کی سطح کی باقاعدہ نگرانی
بلڈ شوگر کی جانچ روزہ توڑنے کا سبب نہیں بنتی اور پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔ خاص طور پر یہ جانچ کریں:افطار سے پہلےافطار کے دو گھنٹے بعد،سحری سے پہلے غیر معمولی علامات محسوس ہونے پر،اگر شوگر 70 mg/dL سے کم ہو جائے یا 300 mg/dL سے زیادہ ہو یا شدید علامات (پسینہ، کپکپی، چکر، بے ہوشی) ظاہر ہوں تو فوراً روزہ توڑنا ضروری ہے۔
تیسرا: متوازن افطار کا انتخاب
صحت مند افطار شوگر کے استحکام کی بنیاد ہے۔ مشورہ دیا جاتا ہے:افطار کی ابتدا ایک یا دو کھجور کے ساتھ پانی سے کریں،میٹھے جوس اور مشروبات سے پرہیز کریں،ہلکی سوپ کا استعمال کریں،صحت مند پروٹین جیسے چکن یا مچھلی کھائیں،سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں،تل اور تلی ہوئی اشیا اور رمضان کی مٹھائی کم کریں،بہتر ہے کہ کھانے کو دو حصوں میں تقسیم کریں تاکہ شوگر میں اچانک اضافہ نہ ہو۔
چوتھا: سحری کا سمجھدار انتخاب
سحری دن کے دوران شوگر کم ہونے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ مشورہ دیا جاتا ہے:آہستہ ہضم ہونے والی غذا، جیسے پورے اناج کی روٹی، اوٹس، فول یا انڈے، دہی اور معتدل مقدار میں میوہ جات ،نمکین یا زیادہ میٹھے کھانے سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ پیاس یا شوگر کی اتار چڑھاو¿ پیدا کر سکتے ہیں۔
پانچواں: زیادہ پانی پینا
افطار اور سحری کے درمیان کافی مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 8سے10 کپ) تاکہ پانی کی کمی سے شوگر نہ بڑھے اور گردوں پر اثر نہ پڑے۔سافٹ ڈرنک، مصنوعی جوس اور زیادہ کیفین سے گریز کریں۔
چھٹا: اعتدال کے ساتھ جسمانی سرگرمی
افطار کے بعد ہلکی ورزش، جیسے 20 سے30 منٹ کی سیر کی جا سکتی ہے،روزے کے دوران سخت ورزش سے پرہیز کریں تاکہ شوگر کم ہونے کے خطرے سے بچا جا سکے۔
کب روزہ نہیں رکھنا چاہیے؟
کچھ حالات میں صحت کے تحفظ کے لیے روزہ ممنوع ہے، جیسے:
رمضان کے پہلے دنوں میں شدید شوگر کم ہونا۔
کیتونک ایسڈوسس (خونی تیزابیت) ہونا۔
حال ہی میں شوگر کی بے ہوشی یا کومہ کا سامنا۔
شوگر کی سطح کنٹرول نہ ہو پانا باوجود ادویات اور احتیاط کے۔

Related posts

برطانوی شہزادہ ولیم سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے، ولی عہد سے ملاقات

Hamari Duniya News

مدارسِ دینیہ قرآن و سنت کے محافظ : مولانا محمد مسلم قاسمی

Hamari Duniya News

آئی سی سی کاپاکستان کو بھارت کے ساتھ میچوں کے بائیکاٹ پر سخت انتباہ ،ہوسکتے ہیں طویل مدتی اثرات

Hamari Duniya News