14.9 C
New York
اکتوبر 23, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

جامعہ پہنچتے ہی عمران مسعود کو پولیس نے کیوں حراست میں لیا؟ محب اللہ ندوی کے ساتھ کیا ہوا؟

عمران مسعود

نئی دہلی، 23 اکتوبر(ہماری دنیا نیوز)۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین انتخابات کی بحالی کے مطالبے پر جاری احتجاج میں سیاسی رہنماؤں کی شمولیت کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی طلبہ کی حمایت کے لیے جامعہ پہنچے، جہاں دہلی پولیس نے دونوں رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق، محب اللہ ندوی کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

جامعہ میں 12 اکتوبر سے طلبہ یونین انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے مطالبے پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو انتخابات کے انعقاد کا واضح شیڈول جاری کرنا چاہیے۔ طلبہ اور طالبات اس مطالبے پر متحد ہیں اور احتجاج ختم کرنے سے پہلے انتخابی پروگرام کے اعلان پر اصرار کر رہے ہیں۔
عمران مسعود نے متنازع نعروں سے لاتعلقی ظاہر کی
عمران مسعود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی کی دیواروں پر لکھے گئے متنازع نعروں اور پوسٹروں کی حمایت سے انکار کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے، لیکن انتظامیہ طلبہ یونین انتخابات بحال کیوں نہیں کر رہی؟

جامعہ کی دیواروں پر ’فری کشمیر‘ اور ’فری شرجیل امام‘ جیسے نعرے لکھے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ ان نعروں کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ انتظامیہ نے مبینہ طور پر کیمیکل کے ذریعے نعروں کو مٹا دیا ہے۔
محب اللہ ندوی نے پولیس پر بدسلوکی کا الزام لگایا
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور رام پور کے نمائندے محب اللہ ندوی کو بھی طلبہ سے ملاقات کے لیے جاتے وقت روکے جانے اور حراست میں لیے جانے کی اطلاع ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، ندوی نے پولیس پر دھکا مکی اور بدسلوکی کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے سابق طالب علم ہونے کے ناطے طلبہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔
متنازع نعروں کے بعد سکیورٹی سخت
یونیورسٹی کی دیواروں پر ’فری کشمیر‘، ’فری شرجیل امام‘ اور دیگر نعرے لکھے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم، دستیاب رپورٹس کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نعرے کس نے لکھے تھے یا ان کا احتجاج کرنے والے طلبہ سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

رپورٹ کے مطابق، انتظامیہ نے نعروں کو مٹانے اور ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے کارروائی کی بات کہی ہے۔ اس دوران جامعہ کی جانب جانے والے راستوں پر پولیس کی نگرانی اور چیکنگ بھی سخت کیے جانے کی اطلاع ہے۔
2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات کا انتظار
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کے انتخابات 2006 سے معطل ہیں۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین (JMISU) بحال کی جائے اور 2026-27 کے تعلیمی سیشن کے لیے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے۔ انتظامیہ نے طلبہ کے مطالبات پر غور اور یونین کا نیا آئین تیار کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن طلبہ فی الحال انتخابات کا واضح شیڈول جاری کرنے کے مطالبے پر قائم ہیں۔ احتجاج کے دوران طلبہ کی بھوک ہڑتال بھی جاری رہی۔

جامعہ میں جاری یہ احتجاج اب طلبہ یونین کی بحالی کے ساتھ طلبہ کے حقوق، انتظامیہ کے رویے اور کیمپس میں اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

Related posts

شاہ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ، ریاض پر حوثیوں کا دہشت گردانہ حملہ قابل مذمت:مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی

Hamari Duniya News

ٹی 20 ورلڈ کپ: زمبابوے نے پھر چونکایا، سری لنکا کو سنسنی خیز مقابلے میں شکست دیدی

Hamari Duniya News

دہلی والوں کو ریکھا گپتا حکومت کا بڑا تحفہ، دہلی فوڈ سیکورٹی رولز نافذ

Hamari Duniya News