10 C
New York
اکتوبر 17, 2026
Regional News علاقائی خبریںTop News

سر سید احمد خان نے تعلیم اور ہندو مسلم اتحاد کا پیغام دیا: کانگریس دفتر میں پارٹی رہنماؤں کا خراجِ عقیدت

سر سید احمد خان نے تعلیم، ترقی پسند نظریات اور سماجی ہم آہنگی کی مشعل روشن کی: سہیل اختر انصاری

سر سید احمد خان نے جدید تعلیم، سائنسی نقطۂ نظر اور ہندو مسلم اتحاد کا پیغام دیا: ڈاکٹر طارق صدیقی

لکھنؤ،17 اکتوبر :عظیم سماجی مصلح اور جدید تعلیم کے علم بردار سر سید احمد خان کی یومِ پیدائش کے موقع پر اتر پردیش کانگریس ہیڈکوارٹر میں ایک مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ مذاکرے میں مقررین نے سر سید احمد خان کی زندگی، ان کی تعلیمی خدمات، سائنسی نقطۂ نظر اور سماجی ہم آہنگی و ہندو مسلم اتحاد کے لیے ان کی کوششوں کو یاد کیا۔

مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، لکھنؤ کے سابق صدر *ڈاکٹر طارق صدیقی* نے کہا کہ سر سید احمد خان جدید تعلیم اور سائنسی نقطۂ نظر کے علم بردار تھے۔ انہوں نے تعلیم کے ذریعے معاشرے کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی، باہمی میل جول اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ ان کے نظریات اور اصولوں کی جھلک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کی خدمات میں نظر آتی ہے، جنہوں نے ملک اور دنیا میں اپنی صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے مثالیں قائم کی ہیں۔

ڈاکٹر طارق صدیقی نے کہا کہ سر سید احمد خان ہندوستان کو ایک خوب صورت دلہن کے مانند تصور کرتے تھے، جس کی ایک آنکھ ہندو اور دوسری آنکھ مسلمان ہے۔ اگر ایک آنکھ خراب ہو جائے تو دلہن کی خوب صورتی ادھوری رہ جائے گی۔ یہ خیال ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان نے مشکل حالات میں بھی محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔ آج راہل گاندھی بھی نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولنے کا پیغام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام میں اگرچہ مسلم کا لفظ شامل ہے، لیکن وہاں ہندو مسلم اتحاد، مشترکہ تاریخ اور باہمی میل جول کی روایت کو قریب سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے پہلے فارغ التحصیل طالب علم ایشوری پرساد اپادھیائے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ تعلیم اور سماجی ہم آہنگی کی مشترکہ وراثت کی علامت ہے۔

پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے *اتر پردیش کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر سہیل اختر انصاری* نے کہا کہ آج ہم ایک ایسی عظیم شخصیت کا یومِ پیدائش منا رہے ہیں، جنہوں نے تعلیم کی ایسی مشعل روشن کی جس کی روشنی نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا تک پہنچی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے ہندوستانی سیاست، سماجی زندگی اور قومی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین، اعظم خان، عارف محمد خان اور محسنہ قدوائی سمیت متعدد اہم شخصیات نے اس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔

انہوں نے کہا کہ سر سید احمد خان کی وراثت ہمیں تعلیم، ترقی پسند نظریات، سماجی ہم آہنگی اور باہمی بھائی چارے کو مضبوط بنانے کی ترغیب دیتی ہے۔ موجودہ دور میں ان کے نظریات کی اہمیت اور افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پروگرام کی نظامت *ہمّام وحید* نے کی، جبکہ اختتامی کلمات *سنجے شرما* نے پیش کیے۔

اس موقع پر کانگریس پارٹی کے خزانچی شیو پانڈے، سابق آئی پی ایس افسر کشہر پاسوان، سمینہ شفیق، دوجیندر ترپاٹھی، ببّلو پانڈے، پرمود سنگھ، ونود مشرا، انیس اختر، مودی اختر، ملک محمد عمیر، مسعود احمد، شہنواز خان، کاشف صدیقی، ایڈووکیٹ شمشاد احمد، رچا شرما، آستھا تیواری، جمال اختر، شفیق احمد سمیت دیگر معززین موجود رہے۔

Related posts

نیوزی لینڈ کی شاندار جیت، ٹی 20 عالمی کپ 2026 کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی امید زندہ

Hamari Duniya News

گورِ غریباں قبرستان میں قدیم قبر کی بے حرمتی، شرپسند عناصر کی حرکت سے تشویش

Hamari Duniya News

سفرِ عمرہ سے واپسی پر مولانا بلال بجرولوی کا روح پرور بیان، سعودی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین

Hamari Duniya News