19.9 C
New York
اکتوبر 10, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریںTop News

دہلی میں CJP کا احتجاج ، دیپکے سمیت کئی رہنماؤں کو جہاز سے ہی حراست میں لیا گیا، دھرو راٹھی کو گروگرام پولیس نے اٹھایا 

نئی دہلی، 10 اکتوبر (ہماری دنیا)۔

دہلی میں ہفتہ، 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل پولیس کی کارروائی اور سخت حفاظتی انتظامات کے باعث سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم، احتجاج شروع ہونے سے پہلے ہی معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی اور پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔

دھرو راٹھی کو گروگرام میں حراست میں لیا گیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یوٹیوبر دھرو راٹھی کو ہفتہ کی صبح گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ تقریباً 50 پولیس اہلکار ان کے گھر پہنچے تھے۔ یہ کارروائی جنتر منتر پر ہونے والے مجوزہ احتجاج میں ان کی شرکت سے پہلے کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق، پولیس نے انہیں دہلی میں نافذ امتناعی احکامات اور احتجاج کے لیے اجازت نہ ملنے کا حوالہ دیتے ہوئے مظاہرے میں شامل نہ ہونے کے لیے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ دھرو راٹھی اس سے قبل بنگلورو میں بھی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔

پرواز کے اندر سے ابھجیت دیپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا حراست میں

احتجاج سے قبل پولیس نے دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھی کارروائی کی۔ CJP کے بانی ابھجیت دیپکے، سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ممبئی سے دہلی پہنچنے والی پرواز کے اندر ہی حراست میں لے لیا گیا۔ ان رہنماؤں کو طیارے سے باہر آنے سے پہلے پولیس نے اپنے قبضے میں لیا اور بعد میں بس کے ذریعے لے جایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران ابھجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر لائیو ویڈیو بھی نشر کی۔ ویڈیو میں وہ پولیس اہلکاروں سے سوال کرتے اور گرفتاری سے نہ گھبرانے کی بات کہتے دکھائی دیے۔ دیپکے نے کہا کہ وہ گرفتار ہونے کے لیے ہی دہلی آئے ہیں۔

CJP نے اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا مقصد پارٹی کی قیادت کو احتجاج میں شرکت سے روکنا تھا۔ پارٹی نے رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جنتر منتر پر 150 مظاہرین حراست میں، دہلی میں سخت حفاظتی انتظامات

دہلی پولیس نے احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت کے مختلف حصوں میں بھاری نفری تعینات کی ہے۔ جنتر منتر کے علاوہ کنّاٹ پلیس اور دیگر اہم مقامات پر بھی پولیس کارروائی کی اطلاعات ہیں۔ آپ کی فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، جنتر منتر پر تقریباً 150 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا، جبکہ دیگر میڈیا رپورٹس میں مختلف مقامات سے حراست میں لیے گئے افراد کی مجموعی تعداد اس سے زیادہ بتائی گئی ہے۔

احتجاج کے پیش نظر دہلی میں ٹریفک کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئیں، کئی مقامات پر گاڑیوں کی جانچ کی گئی اور سرحدی علاقوں میں بھی سکیورٹی سخت رکھی گئی۔ دہلی میٹرو کے 45 اسٹیشنوں پر داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ بعض ٹرین خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ نئی دہلی کے مخصوص علاقے میں انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔

کیا ہیں احتجاج کے اہم مطالبات؟

CJP نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں کے خصوصی جامع نظرثانی عمل (SIR) اور ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں سے ووٹروں کے حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب، الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو انتظامی عمل قرار دیتا رہا ہے اور ناموں کی تبدیلی یا اخراج کے معاملات میں تصدیق کو ضروری بتاتا ہے۔

دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت نہ دینے کے پیچھے امن و قانون کی صورتحال کا حوالہ دیا ہے۔ پولیس کی جانب سے نافذ امتناعی احکامات کے تحت اجتماعات کو محدود کیا گیا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی گئی۔

دھرو راٹھی سمیت CJP رہنماؤں کی حراست اور مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے روکنے کی کارروائی نے شہری آزادی، پُرامن احتجاج کے حق اور انتخابی عمل میں شفافیت سے متعلق بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔ تاہم، حراست میں لیے گئے تمام افراد کی موجودہ قانونی حیثیت اور رہائی کے بارے میں حتمی معلومات کی تصدیق ضروری ہے۔

Related posts

بہار کے ماڈل اسکولوں میں اردو کی ویکنسی صفر دکھانے سے محبان اردو میں شدید ناراضگی

Hamari Duniya News

سمردھ سناتن سنگھ پروگرام میں’’ بومرنگ ورلڈکپ سلور میڈلسٹ ‘‘پر بھاکر ایس کو اعزازی رقم سے نوازا گیا

Hamari Duniya News

ٹی -20 میں بھی دیوار بن کر کھڑے ہوگئے شائی ہوپ،ویسٹ انڈیز نے بھارت کو 6 وکٹوں سے ہرایا

Hamari Duniya News