23.2 C
New York
اکتوبر 8, 2026
Health صحتTop News

نانا پاٹیکر کو 45 منٹ تک سی پی آر کیوں دیا گیا؟ یہ عمل کب تک مؤثر رہتا ہے؟

نئی دہلی، 8 اکتوبر: معروف بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر کے بعد سی پی آر یعنی کارڈیو پلمونری ریسسیٹیشن (CPR) ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دل کا دورہ پڑنے کے بعد طبی ماہرین نے تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر کے ذریعے ان کی جان بچانے کی کوشش کی، تاہم انہیں بچایا نہیں جا سکا اور 75 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔

نانا پاٹیکر کے معاملے نے یہ سوال بھی پیدا کیا ہے کہ سی پی آر آخر کیا ہے، اسے کتنی دیر تک جاری رکھا جاتا ہے اور کیا زیادہ دیر تک سی پی آر دینے سے مریض کے بچنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں؟

سی پی آر کیا ہوتا ہے؟

سی پی آر ایک ہنگامی طبی طریقہ کار ہے جو اس وقت شروع کیا جاتا ہے جب کسی شخص کا دل مؤثر طریقے سے خون پمپ کرنا بند کردے اور وہ معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو۔

اس دوران سینے پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ خون کی گردش کسی حد تک برقرار رہے اور دماغ سمیت جسم کے اہم اعضاء تک آکسیجن پہنچتی رہے۔ تربیت یافتہ طبی عملہ ضرورت کے مطابق مصنوعی سانس، آکسیجن اور دیگر طبی اقدامات بھی استعمال کرسکتا ہے۔

سی پی آر کا بنیادی مقصد دل اور دماغ کو اس وقت تک خون اور آکسیجن فراہم کرنا ہوتا ہے جب تک دل کی دھڑکن بحال نہ ہوجائے یا مزید جدید طبی علاج فراہم نہ کیا جاسکے۔

45 منٹ تک سی پی آر کیوں دیا گیا؟

سی پی آر کے لیے کوئی ایک مقررہ دورانیہ نہیں ہوتا کہ مثلاً 10، 20 یا 30 منٹ کے بعد اسے لازماً روک دیا جائے۔ اس کا دورانیہ مریض کی حالت، دل رکنے کی وجہ، ابتدائی ردعمل، دل کی دھڑکن کی نوعیت اور دیگر طبی عوامل کی بنیاد پر طے کیا جاتا ہے۔

اگر طبی ٹیم کو یہ محسوس ہو کہ مریض کے دوبارہ ہوش میں آنے یا دل کی دھڑکن بحال ہونے کا امکان موجود ہے تو بحالی کی کوششیں جاری رکھی جاسکتی ہیں۔

اسی لیے 45 منٹ تک سی پی آر دیا جانا اپنے آپ میں غیر معمولی یا بے معنی عمل نہیں ہے۔ بعض حالات میں طویل عرصے تک بھی بحالی کی کوششیں کی جاتی ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں مریض کی مجموعی حالت کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ مزید کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔

سی پی آر کتنی دیر تک مؤثر رہتا ہے؟

اس سوال کا کوئی ایک مقررہ جواب نہیں ہے۔ دل کی دھڑکن رکنے کے بعد ہر گزرتا ہوا منٹ اہم ہوتا ہے کیونکہ دماغ اور دوسرے اہم اعضاء کو آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونے لگتی ہے۔

اگر دل رکنے کے فوراً بعد سی پی آر شروع کردیا جائے تو خون کی گردش کو عارضی طور پر برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بعض صورتوں میں ڈیفبریلیٹر (AED) کے ذریعے دل کی معمول کی دھڑکن بحال کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔

تاہم سی پی آر خود ہمیشہ دل کو دوبارہ شروع نہیں کرتا۔ اس کا بنیادی مقصد دماغ اور جسم کے دوسرے اہم حصوں تک خون کی روانی کو برقرار رکھنا ہے تاکہ مریض کو مزید علاج فراہم کرنے کا موقع مل سکے۔

کن عوامل سے مریض کے بچنے کے امکانات متاثر ہوتے ہیں؟

طبی ماہرین کے مطابق دل رکنے کے بعد بحالی کا امکان کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے، جن میں:

سی پی آر کتنی جلدی شروع کیا گیا؛
دل رکنے کی اصل وجہ کیا تھی؛
دل کی دھڑکن کس نوعیت کی تھی؛
ڈیفبریلیشن کی ضرورت اور اس کا بروقت استعمال؛
مریض کی عمر اور مجموعی صحت؛
حادثے یا دل رکنے سے پہلے مریض کی حالت؛
اور ہسپتال میں دستیاب فوری طبی سہولیات شامل ہیں۔

اس لیے صرف یہ دیکھ کر کہ کسی شخص کو 45 منٹ تک سی پی آر دیا گیا، اس کے بچنے کے امکانات یا علاج کی کامیابی کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔

دل کی دھڑکن رکنے کی صورت میں فوری کارروائی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص اچانک بے ہوش ہوجائے اور معمول کے مطابق سانس نہ لے رہا ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی مدد طلب کرنا، تربیت حاصل ہونے کی صورت میں سی پی آر شروع کرنا اور دستیاب ہو تو AED استعمال کرنا مریض کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

سی پی آر جتنی جلدی شروع ہو، اتنا ہی بہتر موقع ہوتا ہے کہ دماغ اور دیگر اہم اعضاء کو خون اور آکسیجن کی کچھ فراہمی جاری رکھی جاسکے۔ نانا پاٹیکر کے معاملے میں 45 منٹ تک سی پی آر دیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹروں نے کوئی مخصوص مدت طے کرکے علاج کیا تھا۔ سی پی آر کا دورانیہ ہر مریض کی طبی صورتحال کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔ اس کا فیصلہ موقع پر موجود طبی ٹیم مریض کے ردعمل اور طبی شواہد کی بنیاد پر کرتی ہے۔

نوٹ: یہ خبر صرف عمومی طبی معلومات کے لیے ہے۔ کسی ہنگامی صورت حال میں فوری طور پر مقامی ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کریں اور تربیت یافتہ طبی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں۔

Related posts

یوپی روڈویز بس ڈرائیوروں کی من مانی سے شاہراہِ عام جام، ٹریفک پولیس کی خاموشی پر سوالات

Hamari Duniya News

ڈائٹ میں معلمین کی عملی تحقیق کی تربیت اختتام پذیر

Hamari Duniya News

اسمبلی انتخابات کی تیاری، گینسڑی میں کانگریس کی اہم میٹنگ، بوتھ سطح پر تنظیم مضبوط بنانے پر زور

Hamari Duniya News