نئی دہلی، 10 ستمبر: چین کے صدر شی جن پنگ رواں ہفتے نئی دہلی میں ہونے والی برکس (BRICS) سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔ یہ دورہ کئی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ شی جن پنگ تقریباً سات سال بعد بھارت آ رہے ہیں۔ ان کا آخری بھارت دورہ اکتوبر 2019 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد 2020 میں گلوان وادی میں ہونے والی جھڑپ کے نتیجے میں دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور 12 اور 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔ اس اجلاس میں برکس کے رکن ممالک کے سربراہان عالمی معیشت، توانائی و غذائی سلامتی، صحت، ڈیجیٹل تعاون، اہم سپلائی چینز اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات پر خصوصی نظر
شی جن پنگ کے دورہ بھارت کا سب سے اہم پہلو ان کی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ممکنہ دو طرفہ ملاقات ہوگی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے۔ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ بھارت اور چین کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے تناظر میں خاصی اہم ہوگی۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات، تجارت، اقتصادی تعاون اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) سے متعلق معاملات پر گفتگو کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے میں سرحدی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں ہوئی ہیں۔
بھارت اور چین کے تعلقات میں 2020 کے گلوان واقعے کے بعد طویل عرصے تک تعطل رہا۔ تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں جانب سے سفارتی رابطوں اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے ذریعے تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
2019 کے بعد پہلا بڑا بھارت دورہ
شی جن پنگ کا موجودہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ وہ 2019 کے بعد پہلی مرتبہ بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔ 2020 کی سرحدی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر طویل مذاکرات ہوئے۔ حالیہ عرصے میں سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے کی کوششوں میں پیش رفت دیکھی گئی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان اگست 2025 میں چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سرحدی علاقوں میں امن و سکون برقرار رکھنے اور باہمی احترام و مفاد کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
تجارت اور سرمایہ کاری بھی اہم موضوع
برکس اجلاس کے دوران بھارت اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات بھی اہم موضوع رہ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم کافی زیادہ ہے، لیکن بھارت اب بھی چینی سرمایہ کاری اور حساس شعبوں میں چینی کمپنیوں کی موجودگی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرتا ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے باوجود کاروباری سطح پر اعتماد کی کمی، سرمایہ کاری سے متعلق ضوابط، ویزا مسائل اور حساس ٹیکنالوجی جیسے معاملات اب بھی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کا حجم مسلسل اہمیت رکھتا ہے۔
حالیہ دنوں میں چین سے متعلق کچھ کمپنیوں اور سرمایہ کاری منصوبوں پر بھارت کی جانب سے سکیورٹی، ڈیٹا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ضوابط کے حوالے سے محتاط پالیسی برقرار رکھنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال میں مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات اقتصادی تعلقات کے مستقبل کے لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
برکس اجلاس میں روس اور ایران کی بھی اہم موجودگی
نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ کے علاوہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس طرح اجلاس میں دنیا کی بڑی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے سربراہان ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود ہوں گے۔
عالمی سطح پر جاری مختلف تنازعات، توانائی اور غذائی سلامتی، عالمی تجارت، ترقی پذیر ممالک کے مفادات اور کثیر قطبی عالمی نظام جیسے معاملات برکس اجلاس میں اہمیت حاصل کرسکتے ہیں۔
دہلی میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات
شی جن پنگ اور ولادیمیر پوتن سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کی آمد کے پیش نظر نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 30 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں دہلی پولیس کے ساتھ نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور بھارت منڈپم سمیت اہم مقامات پر سکیورٹی کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔
بھارت-چین تعلقات کے لیے اہم موڑ
تجزیہ کاروں کے مطابق شی جن پنگ کا بھارت دورہ محض برکس اجلاس تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اسے بھارت اور چین کے دو طرفہ تعلقات میں ممکنہ نئے مرحلے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک ایک جانب باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ دوسری جانب سرحدی مسائل اور سکیورٹی سے متعلق خدشات اب بھی موجود ہیں۔
ایسے میں نئی دہلی میں مودی اور شی جن پنگ کی ملاقات اس بات کا اشارہ دے سکتی ہے کہ دونوں ممالک مستقبل میں اختلافات کے باوجود تعلقات کو کس حد تک مستحکم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ رائٹرز کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی فضا میں کچھ نرمی ضرور آئی ہے، لیکن باہمی اعتماد کی مکمل بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
برکس سربراہی اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوگا، اور شی جن پنگ کی موجودگی اس اجلاس کو نہ صرف عالمی سفارت کاری بلکہ بھارت-چین تعلقات کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت دے رہی ہے۔
