ستمبر 6, 2026
International بین الاقوامی خبریںSaudi Arabia سعودی عربTop News

ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی اور ترک ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال

تہران، 6 ستمبر: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب اور ترکیہ کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطہ کرکے خطے کی موجودہ صورتِ حال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

خبر ایجنسی کے مطابق عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ اور ترک وزیر خارجہ سے گفتگو کے دوران مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔ بات چیت میں خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے، تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی کوششوں پر خصوصی توجہ دی گئی۔

علاقائی کشیدگی کم کرنے پر زور

ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی اور ترک ہم منصبوں سے گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں فوجی کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد ایران، امریکا اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے وسیع تر علاقائی تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

تینوں وزرائے خارجہ نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں ممکنہ سفارتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ علاقائی ممالک کس طرح کشیدگی کم کرنے اور مزید فوجی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سعودی عرب اور ترکیہ کا سفارتی کردار

سعودی عرب اور ترکیہ دونوں خطے کے اہم ممالک ہیں اور حالیہ عرصے میں علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی رابطوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے بیک وقت رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران موجودہ بحران کے دوران علاقائی سفارتی رابطوں کو اہمیت دے رہا ہے۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برسوں میں تعلقات میں بہتری کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ترکیہ بھی خطے کے مختلف بحرانوں میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

سفارتی راستہ کھلا رکھنے کی کوشش

تینوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں جاری سفارتی کوششوں اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ تاہم فی الحال ان رابطوں کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے یا ٹھوس سفارتی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے اعلیٰ سطحی رابطے بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ علاقائی ممالک براہِ راست مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں خطے کے ممالک کی جانب سے سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے، جبکہ عالمی برادری کی توجہ بھی اس بات پر مرکوز ہے کہ ایران اور اس کے مخالف فریقوں کے درمیان کشیدگی کو وسیع تر جنگ میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے۔

Related posts

رمضان المبارک کے پہلے جمعہ پر روح پرور اجتماعات، فضائلِ صوم و عبادات پر مؤثر بیانات

Hamari Duniya News

ڈابری کربلا میں موجود قبروں کی حفاظت کا عدالتی حکم، مقامی لوگوں کو بڑی راحت

Hamari Duniya News

بہتر تعلیمی فروغ سے ہی سماج کی ترقی ہوگی: ڈاکٹر خالد انور

Hamari Duniya News