اگست 10, 2026
Delhi دہلیTop News

شاہین باغ میں شاندار محفلِ مشاعرہ، اردو کے فروغ کے لیے گھروں میں اردو بولنے پر زور

نئی دہلی،10 اگست (محمد خان ہماری دنیا نیوز )۔ دہلی کے شاہین باغ میں واقع رحیق گلوبل اسکول میں اردو اکادمی دہلی کے تعاون سے ایجوکیشن اینڈ سوشل کیئر فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اتوار کی شام ایک شاندار محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ محفل کی صدارت معروف شاعر قاری فضل الرحمان انجم نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرمان چودھری نے نہایت خوبصورتی اور برجستگی کے ساتھ انجام دیے۔

محفل مشاعرہ میں ڈاکٹر بلند اختر اور رئیس اعظم رئیس مظفرنگری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ایڈووکیٹ فردوس، منیجنگ ڈائریکٹر ٹی ایچ اسپتال شاہین باغ، معین قریشی، انجینئر محمد نذیر اور نعیم ملک سمیت دیگر معزز شخصیات نے بطور مہمانانِ ذی وقار شرکت کی۔

اردو کے فروغ کے لیے گھروں سے آغاز ضروری: مفیض الرحمٰن

اس موقع پر مشاعرے کے کنوینر اور سینئر صحافی مفیض الرحمٰن نے اردو زبان و ادب کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ اور اس کے تحفظ کے لیے ہر شخص کو اپنی سطح پر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اردو داں طبقے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اردو کہیں ختم نہیں ہو رہی بلکہ روز بروز پھل پھول رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے کوشش کا آغاز گھروں سے ہونا چاہیے۔ والدین اپنے بچوں سے زیادہ سے زیادہ اردو میں گفتگو کریں اور انہیں بھی اردو بولنے اور پڑھنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے محفل کے انعقاد میں تعاون کے لیے اردو اکادمی دہلی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ رحیق گلوبل اسکول شاہین باغ کی انتظامیہ کا بھی خوبصورت ادبی محفل کے انعقاد کے لیے جگہ فراہم کرنے پر خصوصی طور پر اظہارِ تشکر کیا۔

معین قریشی کی نعت سے مشاعرے کا آغاز

محفلِ مشاعرہ کا آغاز معین قریشی کی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا۔

عالمی شہرت یافتہ شاعر اختر اعظمی نے اپنی پُرسوز و پُرترنم شاعری سے محفل میں سماں باندھ دیا اور سامعین کو دیر تک محظوظ کیا۔ ان کے علاوہ ابھرتے ہوئے نوجوان شعرا ڈاکٹر حبیب الرحمن، وفا اعظمی، ایڈووکیٹ تاج احمد، ہاشم دہلوی، راشد جمال شمسی، وصال اعظم، بابو علی ابر، عبدالحفیظ اور فرحان مفیض نے اپنے منتخب کلام سے محفل کو چار چاند لگا دیے۔ شعرائے کرام کے اشعار پر سامعین نے بھرپور داد و تحسین پیش کی۔

خاص طور پر نوجوان شعرائے کرام کی شرکت نے محفل کو مزید پُررونق بنا دیا۔ شعرائے کرام نے اپنے کلام کے ذریعے محبت، سماجی شعور، انسانی اقدار اور اردو زبان و ادب سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔

ادبی محافل نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کا ذریعہ ہیں

محفل کے دوران مقررین اور شرکائے محفل نے اردو زبان و ادب سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کیا۔ مقررین نے کہا کہ مشاعرے اور ادبی محافل اردو شاعری اور ادب کے فروغ کا اہم ذریعہ ہیں۔ اس طرح کی محافل نئی نسل کو اردو زبان، تہذیب اور ادبی روایت سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

مشاعرے کے دوران سامعین نے شعرائے کرام کے اشعار پر بھرپور داد دی اور محفل کے اختتام تک ادبی جوش و خروش برقرار رہا۔ آخر میں منتظمین کی جانب سے تمام مہمانانِ گرامی، شعرائے کرام، ادبی شخصیات اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کیا گیا۔

محفلِ مشاعرہ ایک خوشگوار اور ادبی ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

Related posts

Supreme Court :سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ میں درختوں کی کٹائی پر پابندی لگائی، ریاستی حکومت کو نوٹس جاری

Hamari Duniya News

پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فیروزپور جھڑکا میں 77ویں یومِ جمہوریہ پر تاریخی ترنگا یاترا

Hamari Duniya News

مدرسہ الصفہ للبنات کا کامیاب سالانہ مظاہرہ

Hamari Duniya News