جون 12, 2026
Articles مضامینTop News

مودی حکومت کے 12 سال: ترقی کی راہ اور چیلنجز کا سفر

مودی حکومت

محمد خان بلرام پوری
آج بھارت کیلئے تاریخی موقع ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت نے 12 سال مکمل کر لیے ہیں۔ 2014 میں جو وعدہ "اچھے دنوں” کا کیا گیا تھا، وہ آج ایک طویل سیاسی، معاشی اور سماجی سفر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس موقع پر غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا حاصل ہوا، کیا باقی رہ گیا اور آئندہ کیا ہونا چاہیے۔ مودی حکومت نے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے شعبے میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ سڑکیں، ہائی ویز، ریلوے، ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر — خاص طور پر UPI اور ڈیجیٹل انڈیا — نے بھارت کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت دی ہے۔ بجٹ میں سرمایہ کاری، پروڈکشن لنکڈ انسنٹیو (PLI) اسکیم اور مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی کوششوں نے کچھ شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کیا۔ کووڈ-19 کے دوران ویکسینیشن مہم اور "آتم نر بھر بھارت” کا نعرہ اگرچہ تنقید کا شکار بھی ہوا، مگر لاکھوں لوگوں کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

خارجہ پالیسی میں بھارت کی ساکھ میں اضافہ ہوا۔ G20 کی میزبانی، امریکہ، یورپ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ قریبی تعلقات، کواڈ کا فعال ہونا اور چین کے مقابلے میں سرحد پر مضبوط موقف — یہ سب مثبت پیش رفتیں ہیں۔ یو پی اور گجرات سمیت ملک کے کئی ریاستوں میں مسلسل کامیابی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کیا ہے۔

چیلنجز اور تنقیدی جائزہ:
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کے 12 سالہ مدت مکمل کرنے کے باوجود کئی بنیادی مسائل حل طلب ہیں۔ بے روزگاری کا مسئلہ، خاص طور پر نوجوانوں میں، اب بھی سنگین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار اور آزاد اداروں کی رپورٹس میں فرق واضح نظر آتا ہے۔ مہنگائی، خاص طور پر غذائی اشیاء کی، عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ کسانوں کی آمدنی میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا اور زرعی بحران اب بھی موجود ہے۔معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔ چند بڑے کاروباری گھرانوں کی خوشحالی کے باوجود چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایم ایس ایم ایز) جدوجہد کر رہے ہیں۔بار بار امتحانات کے پرچے لیکن ہونے سے طلبہ میں ناراضگی، مذہبی پولرائزیشن اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے تشویشات بڑھی ہیں۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں، میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے۔ آزادیِ اظہار کے حوالے سے بھی بین الاقوامی رپورٹس میں بھارت کی درجہ بندی میں گراوٹ دیکھی گئی۔جمہوریت کے ستونوں — عدلیہ، میڈیا اور اداروں — پر حکومت کے اثر و رسوخ کے الزامات بھی لگ رہے ہیں۔ سی اے اے، این آر سی، قوانین اور دیگر متنازع فیصلے معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔

مودی حکومت کیلئے 12 سال ایک اچھا موقع ہے خود احتسابی کا۔ حکومت کو اب ترقی کو زیادہ جامع (inclusive) بنانا چاہیے۔ تعلیم، صحت اور ہنر مندی پر زیادہ توجہ، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، زراعت کی جدید کاری اور ماحولیاتی چیلنجز (خاص طور پر گلوبل وارمنگ) سے نمٹنے کی ٹھوس حکمت عملی درکار ہے۔اپوزیشن کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ صرف احتجاج اور الزام تراشی سے آگے بڑھ کر متبادل وژن پیش کیا جائے۔ بھارت جیسے عظیم ملک کو ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا — مذہب، علاقہ یا زبان سے بالاتر ہو کر۔

مودی حکومت کے 12 سال میں کچھ خواب پورے ہوئے بلکہ زیادہ تر ادھورے ہی ہیں۔ مودی حکومت کو اگر سچ میں شہریوں کیلئے اچھے دن لانا ہے اور ان کی زندگی میں تبدیلی لانا ہے تو اب اگلے مرحلے میں نتائج کو زیادہ پائیدار اور سب کے لیے فائدہ مند بنانا ہوگا۔ "سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس” کا نعرہ اب عمل میں تبدیل ہونا چاہیے۔ بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا خواب دیکھ رہا ہے — یہ خواب صرف ایک پارٹی کا نہیں، پورے قوم کا ہے۔اس موقع پر حکومت کو مبارکباد کے ساتھ ساتھ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ ناکامیوں کا بھی احتساب کرتی ہے۔
(ایڈیٹر روزنامہ ہماری دنیا دہلی)

Related posts

تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں آگ سے تحفظ اور بیداری پروگرام کا انعقاد

Hamari Duniya News

قرآن کو دستورِ حیات بنانے سے ہی امت کی اصلاح ممکن: مولانا یامین

Hamari Duniya News

ٹرائی نے سورت میں موبائل نیٹ ورک ٹیسٹ کیا، ڈیٹا اسپیڈ میں جیو اوول

Hamari Duniya News