تحریر: ڈاکٹر عزیر احمد قاسمی
جنرل سکریٹری، مرکزی جمعیت علماء ہند
مولانا جمال احمد مرحوم کا انتقال یقیناً ایک عظیم سانحہ ہے، جو نہ صرف ان کے خاندان بلکہ ان تمام افراد کے لیے باعثِ صدمہ ہے جنہیں ان سے قلبی وابستگی اور روحانی تعلق حاصل تھا۔ مولانا مرحوم سے ہمارے گھریلو مراسم تھے، اور ان کی زندگی ہمارے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند تھی، جس کا ہر ورق اخلاص، محنت اور خدمتِ دین سے مزین تھا۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم
مولانا جمال احمد مرحوم کی پیدائش 1964ء میں ضلع مہاراج گنج کے گاؤں بگہا میں ہوئی، جو اس وقت ضلع گورکھپور کا حصہ تھا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاجی غلام اللہ صاحب کی سرپرستی میں حاصل کی۔ بعد ازاں ان کے والد محترم نے مدرسہ عربیہ بیت العلوم بیروا چندن پور میں داخلہ کرایا، جہاں انہوں نے نہایت محنت اور لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ مولانا کے استاد ماسٹر عبدالحکیم صاحب تھے، جن سے انہوں نے ابتدائی علوم میں گہری بنیاد قائم کی، اور یہی بنیاد ان کی پوری زندگی کا سرمایہ بنی۔
مولانا مرحوم کا ہمارے گھر سے گہرا تعلق تھا۔ میرے والد محترم حضرت مولانا صوفی مجیب اللہ صاحب، جو مدرسے کے ناظم تھے، ان سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ مولانا نہ صرف ایک ذہین طالب علم تھے بلکہ خدمت گزار، خوش اخلاق اور محبت کرنے والے انسان بھی تھے، جس کی وجہ سے ہمارے خاندان کے ہر فرد کے دل میں ان کے لیے خاص مقام تھا۔
اعلیٰ تعلیم اور علمی سفر
شرح جامی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں مزید تعلیم کے لیے دیوبند لے جایا گیا۔ ابتدا میں مختلف مدارس میں داخلے کی کوشش ہوئی، اور بالآخر جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد اور مدرسہ حیات العلوم میں تعلیم جاری رکھی۔ بعد ازاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ملا، جہاں سے 1984ء میں انہوں نے فراغت حاصل کی۔
فراغت کے بعد انہوں نے مدرسہ عربیہ بیت العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں، اور طلبہ کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی تدریس نہایت مضبوط، منظم اور مؤثر ہوتی تھی، جس کا اثر طلبہ کی زندگیوں میں دیرپا ثابت ہوا۔

بیرونِ ملک تعلیم اور خدمات
1991ء میں انہیں جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں داخلہ ملا، جہاں انہوں نے عربی زبان کے خصوصی پروگرام سے 1995ء میں فراغت حاصل کی۔ یہ مرحلہ ان کی علمی زندگی کا اہم سنگِ میل تھا، جس نے ان کے علمی افق کو مزید وسعت دی۔
بعد ازاں 1996ء میں انہیں ریاض کی معروف کمپنی "المصنع السعودي للاعلام” میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا، جہاں انہوں نے طویل عرصہ دیانت داری اور محنت کے ساتھ کام کیا۔ تاہم صحت کی خرابی، خصوصاً شوگر کے مرض کی وجہ سے 2025ء میں وطن واپس آنا پڑا۔
وطن واپسی اور آخری ایام
وطن واپسی کے بعد انہوں نے علاج کے ساتھ ساتھ دینی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔ مدرسہ امام شاطبی، اوکھلا نئی دہلی میں تدریسی خدمات انجام دیں، اور اپنے گاؤں کی جامع مسجد کی اصلاح و تعمیر میں سرگرم کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے مسجد کی اصلاح کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچا، جو ان کے لیے ایک عظیم صدقۂ جاریہ ثابت ہوگا۔
بالآخر 9 فروری 2026ء کو یہ مردِ مجاہد اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، اور ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
شخصیت اور اوصاف
مولانا جمال احمد مرحوم نہایت سادہ مزاج، صاف گو اور اصول پسند انسان تھے۔ وہ صوم و صلاۃ کے سخت پابند، خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار، اور ہر ایک کے لیے ہمدرد و خیر خواہ تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی انتہائی پاکیزگی، دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ گزاری، اور اپنے پیچھے علم، خدمت اور نیکی کی ایک روشن مثال چھوڑ گئے۔
دعا اور خراجِ عقیدت
مولانا مرحوم کا انتقال ایک عظیم خسارہ ہے، لیکن ان کی خدمات، ان کی تعلیمات اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی بشری کمزوریوں کو معاف فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
