7.3 C
New York
فروری 17, 2026
National قومی خبریںTop News

 اے ایم پی کی دو روزہ انٹرنیشنل زکوٰۃ کانفرنس 2026 اجتماعی، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی زکوٰۃ نظام کے مطالبے کے ساتھ اختتام پذیر

اے ایم پی
زکوٰۃ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک خدائی معاشی نظام ہے۔ ہمارا مقصد ایک شفاف، وسعت پذیر اور ٹیکنالوجی سے مزین زکوٰۃ نظام قائم کرنا ہے جو خاندانوں کو باوقار بنائے: عامر ادریسی، صدر،  اسوسییشن اف مسلم پروفیشنلز (اے ایم پی)
علی گڑھ، 17فروری : اسوسییشن اف مسلم پروفیشنلز ( اے ایم پی) کی جانب سے منعقدہ دو روزہ انٹرنیشنل زکوٰۃ کانفرنس 2026 کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس میں پائیدار سماجی بااختیاری کے لیے اجتماعی، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی زکوٰۃ نظام قائم کرنے پر زور دیا گیا۔
 اے ایم یو ٹیچرز اسوسییشن کانفرنس ہال، اے ایم یو، علی گڑھ میں شاندار افتتاحی اجلاس کے بعد مختلف موضوعاتی نشستوں میں موجودہ چیلنجز، ٹیکنالوجی کے استعمال، عالمی ماڈلز اور منظم زکوٰۃ نظام کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
زکوٰۃ کے موجودہ چیلنجز
ڈاکٹر کوثر کنین کی میزبانی میں ہونے والے سیشن میں “آج کے ہندوستان میں زکوٰۃ: مسائل اور خلا” پر گفتگو ہوئی۔ مقررین نے زکوٰۃ کے حساب اور تقسیم میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی نشاندہی کی اور سوال اٹھایا کہ بڑی مقدار میں زکوٰۃ جمع ہونے کے باوجود غربت کیوں باقی ہے۔
پروفیسر محمد راشد نے غربت میں کمی سے آگے بڑھ کر غربت کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا اور منظم ادارہ جاتی نظام اپنانے کی اپیل کی۔
ٹیکنالوجی، شفافیت اور جدید زکوٰۃ
اس نشست میں ڈیجیٹل تبدیلی، اے آئی کے ذریعے مستحقین کی نشاندہی، بلاک چین پر مبنی حساب اور اثرات کی پیمائش پر گفتگو ہوئی۔ ماہرین نے کہا کہ مستقبل کا زکوٰۃ نظام شریعت کی پابندی کے ساتھ ڈیٹا پر مبنی جوابدہی پر قائم ہونا چاہیے۔ اختتام پر انجینئر مجتبیٰ خان نے کہا کہ زکوٰۃ کی کامیابی کا معیار صرف تقسیم کی تعداد نہیں بلکہ اس کے حقیقی اثرات ہونے چاہئیں۔
راحت سے بااختیاری تک
اس سیشن میں قلیل مدتی امداد سے آگے بڑھ کر تعلیم، روزگار، وقف کے انضمام، مائیکرو فنانس اور کمیونٹی کی بحالی کے ماڈلز پر زور دیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ زکوٰۃ کو حکمتِ عملی کے تحت ہنر مندی، اعلیٰ تعلیم اور پائیدار روزگار کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔
عالمی تجربات اور رہنمائی
اس نشست میں بین الاقوامی سطح پر زکوٰۃ کے کامیاب ماڈلز پر روشنی ڈالی گئی۔ ملائیشیا کے گلوبل صدقہ کے شریک بانی، مسٹر زاہد متین نے کہا “ٹیکنالوجی نے دینے کے عمل کو آسان اور عوامی بنا دیا ہے۔ جب شفافیت اور اعتماد بڑھتا ہے تو شرکت بھی بڑھتی ہے۔” مولانا سلیم برجیس ندوی نے خلیجی ممالک کے منظم زکوٰۃ نظام اور مرکزی جمع آوری کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔
برطانیہ سے ڈاکٹر عدنان صلاح الدین نے کہا: “اگر زکوٰۃ کو مؤثر بنانا ہے تو منظم نظام، قوانین کی پابندی اور واضح نتائج ضروری ہیں۔ زکوٰۃ کو غیر رسمی خیرات سے باقاعدہ سماجی مالیاتی نظام کی طرف لے جانا ہوگا۔”
اجتماعی زکوٰۃ: آگے کا راستہ: آخری نشست میں اجتماعی زکوٰۃ کے نظام پر زور دیا گیا۔
مولانا خالد رشید فرنگی محلی، چیئرمین انڈیا اسلامک سینٹر، لکھنؤ نے کہا: “انفرادی زکوٰۃ کا اپنا ثواب ہے، لیکن اجتماعی زکوٰۃ کا اثر زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ اگر ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں تو منظم اور جوابدہ نظام اپنانا ہوگا۔”
اے ایم پی کا وژن اور روڈ میپ 
کانفرنس کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے عامر ادریسی نے کہا: “زکوٰۃ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک خدائی معاشی نظام ہے۔ ہمارا مقصد ایک شفاف، وسعت پذیر اور ٹیکنالوجی پر مبنی زکوٰۃ نظام قائم کرنا ہے جو خاندانوں کو باوقار بنائے۔ ہم قلیل مدتی امداد سے آگے بڑھ کر منظم قومی تعمیر کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے انڈیا زکوۃ کو ایک متحد، شفاف اور اثر انگیز پلیٹ فارم کے طور پر مضبوط بنانے پر زور دیا، جو اے ایم پی کے 25 سالہ روڈ میپ سے ہم آہنگ ہے۔
دو روزہ کانفرنس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ اجتماعی زکوٰۃ نظام کو مضبوط کیا جائے گا، ٹیکنالوجی سے شفافیت بڑھائی جائے گی، قلیل مدتی امداد سے آگے بڑھ کر بااختیاری پر توجہ دی جائے گی، عالمی تجربات سے سیکھا جائے گا اور قومی و بین الاقوامی اشتراک کو فروغ دیا جائے گا۔یہ کانفرنس ہندوستان میں منظم، بااثر اور کمیونٹی پر مبنی زکوٰۃ نظام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔

Related posts

جشنِ مسرت کا دلکش منظر، کوتوالی انسپکٹر کے بیٹے کی سالگرہ باوقار انداز میں منائی گئی

Hamari Duniya News

سی آر پی ایف کیمپ رامپور حملہ: پھانسی اور عمر قید کی سزائیں ختم کرنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج 

Hamari Duniya News

بنگلہ دیش میں ووٹوں کی گنتی جاری، جماعت اسلامی کو دھچکا، بی این پی آگے

Hamari Duniya News