سدھارتھ نگر، 15 فروری: ۔14 فروری 2026 بروز ہفتہ، کلیہ البنات المسلمات، انتری بازار کا وسیع و عریض ہال ایک روحانی اور علمی نور سے جگمگا رہا تھا۔
یہ مبارک گھڑی تقریبِ ردائے فضیلت و تقسیمِ اسنادکی تھی—وہ یادگار لمحہ جب برسوں کی محنت، ریاضت اور استقامت کوعزت و وقار کا تاج پہنایا جاتا ہے۔ اس بابرکت موقع پر ایک پُراثر دعوتی و تبلیغی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت شیخ شفیع اللہ عبدالحکیم مدنی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض شیخ عبدالحفیظ سراجی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
محفل کا آغاز طالبہ عائشہ اشرف کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی دلنشیں آواز نے فضا کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ اس کے بعد ہدیۂ حمد و نعت ہادیہ نعیم الرحمن اور آصفہ شمیم نے پیش کیا، جس سے حاضرین کے دل عقیدت و محبت کے جذبات سے لبریز ہوگئے۔ خادمِ کلیہ، فضیلت الشیخ عبدالسمیع سلفی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہا اور ادارے کی علمی و تربیتی خدمات پر روشنی ڈالی۔
بعد ازاں معزز علمائے کرام کے فکرانگیز خطابات ہوئے۔ پہلے مقرر نے ’’تربیتِ اولاد‘‘ کے اہم موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے معاشرے کی اصلاح میں صالح تربیت کی ناگزیریت کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد شیخ عبدالغنی سلفی (استاد، کلیہ الطبیات ڈومریا گنج) نے نہایت مؤثر اور بصیرت افروز انداز میں طالبات کو اخلاقِ حسنہ اختیار کرنے اور نماز کی پابندی کو اپنی زندگی کا شعار بنانے کی تلقین فرمائی۔ آخری خطاب شیخ شکیل شمس ہندی مدنی نے ’’تعلیم و تربیت‘‘ کے موضوع پر فرمایا۔ آپ کا مدلل اور روح پرور بیان سامعین کے دلوں میں اترتا چلا گیا اور محفل کو ایک فکری بالیدگی عطا کر گیا۔
مجلس کے صدر شیخ شفیع اللہ عبدالحکیم مدنی نے اپنے صدارتی کلمات میں فرمایا کہ ردائے فضیلت محض ایک رسمی اعزاز نہیں بلکہ علم و عمل کی امانت ہے۔ یہ اس امر کا اعتراف ہے کہ طالبات نے شب و روز کی محنت سے علمی منازل طے کیں اور اب وہ ملت کی بیٹیوں کی حیثیت سے معاشرے کی رہنمائی کی ذمہ دار ہیں۔ آپ نے طالبات کو تقویٰ، اخلاص اور خدمتِ دین کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانے کی نصیحت فرمائی۔
تقریب کا سب سے ایمان افروز اور جذبات سے بھرپور منظر وہ تھا جب دستارِ فضیلت کی حق دار طالبات کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ ان کے سروں پر علم و شرف کی دستار سجائی گئی اور اسناد و انعامات سے نوازا گیا۔ یہ لمحہ والدین کے لیے فخر و مسرت کی معراج تھا—آنکھوں میں تشکر کے آنسو اور لبوں پر دعائیں تھیں۔

اس سال آٹھ خوش نصیب طالبات نے دستارِ فضیلت حاصل کی، جن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
عائشہ اشرف بنت اشرف علی (گلہورا)، منیزہ عفاف بنت جمشید عالم (انتری بازار)، عاتکہ بنت عبدالبر (انتری بازار)، نادیہ نعیم الرحمن بنت محمدوا گرانٹ، فرحانہ بنت منور حسن (ندولیا)، طاہرہ بنت یار محمد (محمدوا گرانٹ)، شیبہ بنت رئیس احمد (محمدوا گرانٹ) اور صاحبہ بنت صاحب علی (جمہونا)۔
اختتام پر مولانا مجیب الرحمن عادل سراجی نے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور رقت آمیز دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان فارغ التحصیل طالبات کو علمِ نافع، عملِ صالح اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے، اور اس ادارے کو ترقی و استحکام کی نئی راہوں پر گامزن رکھے۔
بلاشبہ ایسی روح پرور تقریبات نہ صرف حوصلوں کو جلا بخشتی ہیں بلکہ مستقبل کے افق پر امید و عزم کی نئی کرنیں بھی روشن کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو عزت و وقار میں مزید اضافہ عطا فرمائے اور اسے علم و عمل کا مینارۂ نور بنائے، آمین
