نئی دہلی، 09 فروری: آج یونائیٹیڈ مسلم مورچہ کے زیر اہتمام جنتر منتر، دہلی میں ایک احتجاجی دھرنے کا انعقاد کیا گیا، جس میں یونائیٹیڈ مسلم مورچہ کے قومی ترجمان حافظ غلام سرور نے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سماجی انصاف کے حقیقی قیام کے لیے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے دائرۂ تحفظ کو وسیع کیا جانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں یہ قانون مخصوص طبقات تک محدود ہے، جبکہ مسلمان اور خاص کر پسماندہ طبقات بھی اسی نوعیت کے ظلم، استحصال اور تشدد کا سامنا کر رہے ہیں، مگر انہیں مساوی قانونی تحفظ حاصل نہیں۔
حافظ غلام سرور نے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سماجی تشدد (Social Violence) اور فرقہ وارانہ تشدد (Communal Violence) اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قانون کو انصاف کے اصولوں پر ازسرِ نو دیکھا جائے۔ اگر قانون کا مقصد مظلوم کو تحفظ فراہم کرنا ہے تو یہ تحفظ مذہب یا شناخت سے بالاتر ہو کر ہر محروم طبقے تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ سیاست (Communal Politics) نے سماج میں نفرت، تعصب اور عدم اعتماد کی فضا کو فروغ دیا ہے، جس کے نتیجے میں سماجی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے اور جمہوری اقدار کمزور پڑ رہی ہیں۔
قومی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ اگر واقعی تشدد، نفرت اور امتیاز کا خاتمہ مقصود ہے تو قانون سازی میں مساوات اور انصاف کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ میں مسلمانوں کو شامل کرنا سماجی عدل کی سمت ایک ضروری قدم ہے۔
آخر میں انہوں نے دانشور طبقے، سماجی تنظیموں اور عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ قانون کو زیادہ جامع، منصفانہ اور ہمہ گیر بنایا جائے۔ دھرنے کی صدارت ڈاکٹر عبدالسلام نے کی ،اس موقع پر عبدالحکیم حواری ،رئیس سیفی ،دلشاد اختر سلمانی ،شاہ رخ خان ،محمد اعظم ،وغیرہ نے بھی اپنی بات رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم سے مسلمانوں کو ایس سی/ایس ٹی ایکٹ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
