مضمون نگاری ایک ایساادبی فن ہے جو خیالات کو منظم و مدلل انداز میں پیش کرنے کا ہنر ہے۔ڈاکٹر ابو ظہیر ربانی
نئی دہلی، 31 جنوری: شعبہ اردو،دیال سنگھ کالج (دہلی یونیورسٹی) کے اردو سوسائٹی کی جانب سے آج مورخہ 30جنوری ۶2026کو مقالہ خوانی کا انعقاد عمل میں آیا۔جس میں شعبہ کے طلباءو طالبات نے بھر پور حصہ لیا۔پروگرام کی صدارت کر تے ہوئے ڈاکٹرابو ظہیر ربانی نے مضمون نگاری کی اہمیت کو واضح کر تے ہوئے کہا کہ مضمون نگاری ایک ایسا ادبی فن ہے جو خیالات کو منظم و مدلل اور موئثر انداز میں پیش کر نے کی صلاحیت عطا کر تا ہے۔طلبا و طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر تحقیق و تنقید کرنے کی صلاحیت پید ا کریں مزید انہوں نے کہا کہ سب سے زیاد ہ آپ کو زبان و بیان اور لب ولہجہ پرمکمل دھیان دینے کی ضرورت ہے۔
پروگرام کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹرمحمد ارشدندوی نے کہاکہ یہ آپ کی دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ شعبہئ کے سترہ طلباءوطالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یقیناً آپ قابل مبارک باد کے مستحق ہیں۔ مضمون نگاری کی باریکیوں کی طرف نشاندہی کراتے ہوئے کہاکہ مضمون نگاری یا مقالہ خوانی وقت کا اہم تقاضہ ہے کیونکہ اہل علم و ادب کے لیے مقالہ خوانی عالمانہ بصیرت اور نئے نظریا ت و تجربات کو جنم دیتی ہے،اس لیے آپ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے اندر عالمانہ بصیرت پیدا کریں۔ مزید انہوں نے کہا کہ مقالہ پڑھنے والے طلبا و طالبات کی زبان و بیان کی جانب نشان دہی بھی کی۔
وہیں ڈاکٹر محمد انعام الحق نے بچوں کو نصیحت کر تے ہوئے کہاکہ یہ موقع آپ کے لیے بہت اہم ہے اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھایے اور بڑھ چڑھ کرحصہ لیجئے تاکہ آنے والی زندگی میں یہی طریقہ کار آپ کے کام آئینگے۔اور جن بچوںنے حصہ نہیں لیاہے ان کو چاہئے کہ وہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ڈاکٹر سرفراز جاوید نے کہا کہ یہ اسٹیج آپ کے لیے سجائی گئی ہے،آپ سب نے بھر پور حصہ لیا اس لیے آپ سب قابل مبارک باد ہیں،ایسی ہی محنت کرتے رہیے۔آخیر میں ڈاکٹر محمد طالب نے تمام مقالہ نگار کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ مضمون نگاری ایک ایسا فن ہے جو انسان کو اپنی بات سلیقہ اور ترتیب کے ساتھ کہنا سکھا تا ہے جس سے فکر میں وسعت پیدا ہو تی ہے۔ مقالہ پڑھنے کے لیے کئی عناوین دیے گیے تھے جن میں الطاف حسین حالی سوانح و شخصیت، عصمت چغتائی کا رپور تاژ، فیض احمد فیض کی نظم نگاری،یوسف خاں کمبل پوش کے سفرنامے،غالب کی عشقیہ غزل گوئی،سودا کی قصیدہ نگاری اور جدید نظم کی خصوصیات پر طلبا نے مقالے پڑھے۔مضمون پڑھنے والوں میں سال سوم سے طوبی،سارہ،محمد فیصل،محمد افتاج،نسیمہ،زیبا رحمان اور ثنا ہیں۔ سال دوم کے طلبائمیں محمد ناہید،یاسمین،تلبیہ،روبی،اور سال اول کے طلبا و طالبات میں نشاط،سہانا،سعدیہ توقیر،ثانیہ خانم،محمد خلیل،نغمہ پروین وغیرہ نے مضامین پیش کئے۔اول پوزیشن حاصل کرنے والوں میںسال اول سے محمد خلیل،دوم میں تلبیہ منعم اور طوبی،سوم میں روبی اورنشاط ہیں۔وہیں تشجیع انعام کے لیے نسیمہ اور سہانہ منتخت ہوئے۔ پروگرام کے اخیر میں سبھوں کو سرٹیفکٹ سے نوازاگیا۔ پروگرام کی نظامت سال سوم سے طوبی اور سال اول سے محمد خلیل نے کی۔
پروگرام کو کامیاب بنانے والوں میںامان سیفی سال چہارم، محمد مظاہر،محمد فیصل، صابر، نسیمہ، طوبی،محمد خلیل،عبدالرحیم،محمد ناہید وغیرہ نے نمایاں کردار ادا کئے۔ شعبہ کے علاوہ دیگر کورس کے طلباءوطالبات بھی کثیر تعداد میں موجودتھے۔
